(۱۵۰۳۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ وَعَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی حَسَّانَ : أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَوَاحِدَۃٌ بَائِنَۃٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَہَا فَوَاحِدَۃٌ وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا وَبِہِ کَانَ یَأْخُذُ قَتَادَۃُ۔ وَرُوِیَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ : مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ذَلِکَ رِوَایَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِی أَنْفُسِہِمَا مُخَالِفَتَانِ لِمَا مَضَی۔ [صحیح]
(١٥٠٣٠) ابو حسان فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اگر عورت اپنے آپ کو اختیار کرتی ہے تو ایک طلاق جدا کردینے والی ہے اور اگر اس نے خاوند کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے اور خاوند عورت کا زیادہ حق دار ہے۔ یہی قتادہ کا قول ہے۔