hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15044

.

سنن البيهقي

15044
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۰۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ قَالَ حَدَّثَنِی الأَسْوَدُ وَعَلْقَمَۃُ قَالاَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَالَ : کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَ امْرَأَتِی بَعْضُ مَا یَکُونُ بَیْنَ النَّاسِ فَقَالَتْ : لَوْ أَنَّ الَّذِی بِیَدِکَ مِنْ أَمْرِی بِیَدِی لَعَلِمْتُ کَیْفَ أَصْنَعُ قَالَ فَقُلْتُ : إِنَّ الَّذِی بِیَدِی مِنْ أَمْرِکِ بِیَدِکِ قَالَتْ : فَإِنِّی قَدْ طَلَّقْتُکَ ثَلاَثًا۔ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : أُرَاہَا وَاحِدَۃً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِہَا وَسَأَلْقَی أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ عُمَرَ فَأَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَلَقِیَہُ فَسَأَلَہُ فَقَصَّ عَلَیْہِ الْقِصَّۃَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَلَ اللَّہُ بِالرِّجَالِ یَعْمِدُونَ إِلَی مَا جَعَلَ اللَّہُ بِأَیْدِیہِمْ فَیَجْعَلُونَہُ بِأَیْدِی النِّسَائِ بِفِیہَا التُّرَابُ بِفِیہَا التُّرَابُ فَمَا قُلْتَ قَالَ قُلْتُ: أُرَاہَا وَاحِدَۃً وَہُوَ أَحَقُّ بِہَا قَالَ: وَأَنَا أَرَی ذَلِکَ وَلَوْ قُلْتَ غَیْرَ ذَلِکَ لَرَأَیْتُ أَنَّکَ لَمْ تُصِبْ۔[حسن]
(١٥٠٣٨) ابراہیم حضرت علقمہ اور اسود سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہنے لگا : میرے اور بیوی کے درمیان کچھ جھگڑا تھا جیسے لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں، پھر اس عورت نے کہا : جو اختیار تیرے ہاتھ میں ہے اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو جانتا کہ میں کیا کرتی ہوں تو خاوند نے اپنا اختیار بیوی کو دے دیا۔ بیوی نے تین طلاقیں دے لیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : میرے خیال میں یہ ایک طلاق ہے اور تو اس کا زیادہ حق دار ہے، عنقریب میں امیرالمومنین حضرت عمر (رض) سے ملوں گا، ان سے اس بارے میں سوال کروں گا تو ان سے مل کر قصہ بیان کر کے پوچھا تو فرمانے لگے : جو اختیار اللہ نے مردوں کے سپرد کیا ہے وہ اپنی عورتوں کو دے دیتے ہیں، ان کے منہ میں مٹی ہو۔ ان کے منہ میں مٹی ہو۔ تو نے کیا کہا ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : یہ ایک طلاق ہے اور خاوند عورت کا زیادہ حق دار ہے۔ فرمایا : میرا بھی یہی خیال ہے اگر آپ اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرتے تو میں خیال کرتا آپ نے صحیح فیصلہ نہیں کیا۔