(۱۵۰۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ امْرَأَۃً قَالَتْ لِزَوْجِہَا لَوْ أَنَّ بِیَدِی مِنْ أَمْرِ الطَّلاَقِ مَا بِیَدِکَ لَفَعَلْتُ فَقَالَ لَہَا : ہُوَ بِیَدِکِ أَوْ قَدْ جَعَلْتُہُ بِیَدِکِ فَقَالَتْ لَہُ : فَأَنْتَ طَالِقٌ ثَلاَثًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَطَّأَ اللَّہُ نَوْئَ ہَا أَلاَ طَلَّقَتْ نَفْسَہَا۔
وَرُوِّینَا عَنْ مَنْصُورٍ أَنَّہُ قَالَ قُلْتُ لإِبْرَاہِیمَ : بَلَغَنِی أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَقُولُ : خَطَّأَ اللَّہُ نَوْئَ ہَا لَوْ قَالَتْ : قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِی فَقَالَ إِبْرَاہِیمُ : ہُمَا سَوَاء ٌ یَعْنِی قَوْلُہَا طَلَّقْتُکَ وَطَلَّقْتُ نَفْسِی سَوَاء ٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٥٠٥٢) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا : اگر طلاق دینے کا اختیار مجھے ہو جو آپ کے اختیار میں ہے تو پھر کچھ کروں۔ تو خاوند نے یہ اختیار بیوی کو دے دیا۔ وہ کہنے لگی : تجھے تین طلاقیں تو ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے کام کو غلط قرار دیتے ہیں، اس نے اپنے آپ کو طلاق کیوں نہ دی۔
(ب) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ اس کے کام کو غلط قرار دیتے ہیں، اس نے یہ کیوں نہ کہا کہ میں نے اپنے آپ کو طلاق دی ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں : اس کا قول دونوں طرح برابر ہے : طَلَّقْتُکَ وَطَلَّقْتُ نَفْسِی۔
(٢٥) باب الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ فِی نَفْسِہِ وَلَمْ یُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَہُ
خاوند دل میں بیوی کو طلاق دے دے زبان سے بات نہ کرے