hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15081

.

سنن البيهقي

15081
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۰۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّہَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی عَمِّی الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِیَّہَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَطِیَّۃَ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا{یاََیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ} إِلَی قَوْلِہِ {وَہُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ} قَالَ : کَانَتْ حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مُتَحَابَّتَیْنِ وَکَانَتَا زَوْجَتَیِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَہَبَتْ حَفْصَۃُ إِلَی أَبِیہَا تَتَحَدَّثُ عِنْدَہُ فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی جَارِیَتِہِ فَظَلَّتْ مَعَہُ فِی بَیْتِ حَفْصَۃَ وَکَانَ الْیَوْمُ الَّذِی یَأْتِی فِیہِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَرَجَعَتْ حَفْصَۃُ فَوَجَدَتْہَا فِی بَیْتِہَا فَجَعَلَتْ تَنْتَظِرُ خُرُوجَہَا وَغَارَتْ غَیْرَۃً شَدِیدَۃً فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جَارِیَتَہُ وَدَخَلَتْ حَفْصَۃُ فَقَالَتْ : قَدْ رَأَیْتُ مَنْ کَانَ عِنْدَکَ وَاللَّہِ لَقَدْ سُؤْتَنِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَاللَّہِ لأُرْضِیَنَّکِ وَإِنِّی مُسِرٌّ إِلَیْکِ سِرًّا فَاحْفَظِیہِ فَقَالَ إِنِّی أُشْہِدُکِ أَنَّ سُرِّیَّتِی ہَذِہِ عَلَیَّ حَرَامٌ رِضًا لَکِ ۔ وَکَانَتْ حَفْصَۃُ وَعَائِشَۃُ تَظَاہَرَتَا عَلَی نِسَائِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَانْطَلَقَتْ حَفْصَۃُ فَأَسَرَّتْ إِلَیْہَا سِرًّا وَہُوَ أَنْ أَبْشِرِی أَنَّ مُحَمَّدًا -ﷺ- قَدْ حَرَّمَ عَلَیْہِ فَتَاتَہُ فَلَمَّا أَخْبَرَتْ بِسِرِّ النَّبِیِّ -ﷺ- أَظْہَرَ اللَّہُ النَّبِیَّ -ﷺ- عَلَیْہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ -ﷺ- {یاََیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ [ضعیف]
(١٥٠٧٥) عطیہ بن سعد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں : { یاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } الی قولہ { وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ } ” اے نبی ! آپ نے کیوں حرام کرلیا جو چیز اللہ نے آپ کے لیے حلال رکھی ہے اور وہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ “ فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ، عائشہ (رض) دونوں اپنے خاوند نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتی تھیں۔ حضرت حفصہ (رض) اپنے والد کے گھر جا کر بات چیت کرتی رہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی لونڈی کو بلوایا اور حضرت حفصہ کے گھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لونڈی کے ساتھ لپٹ گئے اور یہ حضرت عائشہ (رض) کی باری کا دن تھا۔ جب حضرت حفصہ واپس آئیں تو اپنے گھر لونڈی کو پایا تو اس کے نکلنے کا انتظار کیا اور سخت غیرت کھائی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لونڈی کو نکالا اور حضرت حفصہ گھر میں داخل ہوئیں۔ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ کو دیکھ لیا آپ جس کے ساتھ تھے۔ اللہ کی قسم ! آپ نے مجھے ناراض کیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تجھے راضی کروں گا لیکن میرا راز پوشیدہ رکھنا، اس کی حفاظت کرنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی اس لونڈی کو تیری رضا کے لیے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور حفصہ اور حضرت عائشہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں سے ایک دوسرے کا تعاون کرتی تھیں، اکٹھی تھیں تو حضرت حفصہ (رض) نے راز حضرت عائشہ (رض) کے سامنے کھول دیا کہ آپ خوش ہوجائیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی لونڈی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ جب حفصہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے راز کی خبر دے دی تو اللہ رب العزت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اظہار کردیا۔ اللہ نے اپنے رسول پر یہ آیات نازل فرمائی : { یاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } ” اے نبی ! آپ نے کیوں حرام قرار دی وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی تھی۔ “