(۱۵۰۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُطَّۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَکَرِیَّا الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بُکَیْرٍ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ لَہُ أَمَۃٌ یَطَؤُہَا فَلَمْ تَزَلْ بِہِ حَفْصَۃُ حَتَّی جَعَلَہَا عَلَی نَفْسِہِ حَرَامًا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃَ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغِی مَرْضَاتَ أَزْوَاجِکَ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ۔ [صحیح]
(١٥٠٧٦) ثابت حضرت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک لونڈی تھی، جس سے آپ مجامعت فرماتے تھے تو حضرت حفصہ کے اصرار کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لونڈی کو اپنے اوپر حرام کرلیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغِی مَرْضَاتَ أَزْوَاجِکَ } [التحریم ١] ” اے نبی ! آپ نے کیوں حرام قرار دیا جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی، صرف اپنی بیویوں کی رضا مندی کے لیے۔ “