(۱۵۰۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا عَبِیدَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَجُوَیْبِرٍ عَنِ الضَّحَّاکِ : أَنَّ حَفْصَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَارَتْ أَبَاہَا ذَاتَ یَوْمٍ وَکَانَ یَوْمَہَا فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمْ یَرَہَا فِی الْمَنْزِلِ فَأَرْسَلَ إِلَی أَمَتِہِ مَارِیَۃَ الْقِبْطِیَّۃِ فَأَصَابَ مِنْہَا فِی بَیْتِ حَفْصَۃَ فَجَائَ تْ حَفْصَۃُ عَلَی تِلْکَ الْحَالَۃِ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَفْعَلُ ہَذَا فِی بَیْتِی وَفِی یَوْمِی قَالَ : فَإِنَّہَا عَلَیَّ حَرَامٌ لاَ تُخْبِرِی بِذَلِکَ أَحَدًا ۔ فَانْطَلَقَتْ حَفْصَۃُ إِلَی عَائِشَۃَ فَأَخْبَرَتْہَا بِذَلِکَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی کِتَابِہِ {یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ } إِلَی قَوْلِہِ {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِینَ} فَأُمِرَ أَنْ یُکَفِّرَ عَنْ یَمِینِہِ وَیُرَاجِعَ أَمَتَہُ۔
وَبِمَعْنَاہُ ذَکَرَہُ الْحَسَنُ الْبَصْرِیُّ مُرْسَلاً۔ [ضعیف]
(١٥٠٧٧) ضحاک فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ (رض) اپنی باری کے دن والد کی زیارت کو چلی گئی۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو انھیں گھر میں نہ دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ کو بلا کر حفصہ کے گھر میں ہمبستر ہوگئے۔ حضرت حفصہ (رض) اسی حالت میں آگئی۔ کہتی ہیں : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے یہ کیا کیا میرے گھر میں اور میری باری کے دن ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میرے اوپر حرام ہے لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔ حضرت حفصہ (رض) نے جا کر حضرت عائشہ (رض) کو بتادیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ } الی قولہ { وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ } [التحریم ١۔ ٤] آپ کو حکم دیا گیا کہ قسم کا کفارہ دے کر لونڈی سے رجوع کریں۔