(۱۵۰۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : أَیُّمَا رَجُلٍ قَالَ لاِمْرَأَتِہِ أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ خَرَجْتِ حَتَّی اللَّیْلِ فَخَرَجَتِ امْرَأَتُہُ أَوْ قَالَ ذَلِکَ فِی غُلاَمِہِ فَخَرَجَ غُلاَمُہُ قَبْلَ اللَّیْلِ بِغَیْرِ عِلْمِہِ طَلَقَتِ امْرَأَتُہُ وَعَتَقَ غُلاَمُہُ لأَنَّہُ تَرَکَ أَنْ یَسْتَثْنِیَ لَوْ شَائَ قَالَ بِإِذْنِی وَلَکِنَّہُ فَرَّطَ فِی الاِسْتِثْنَائِ فَإِنَّمَا یُجْعَلُ تَفْرِیطُہُ عَلَیْہِ۔ [ضعیف]
(١٥٠٩٣) ابن ابی زناد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ مدینہ کے فقہاء سے نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا : اگر تو رات تک گھر سے نکلی تو تجھے طلاق۔ تو اس کی بیوی گھر سے باہر چلی گئی یا اس نے اپنے غلام کے بارے میں کہا تو غلام رات سے پہلے بغیر بتائے چلا گیا تو عورت کو طلاق اور غلام آزاد ہوجائے گا؛ کیونکہ اس نے استثناء کو چھوڑ دیا ہے، اس نے استثناء میں کوتاہی کی ہے تو اس کے ذمہ کوتاہی کو لگا دیا گیا۔