(۱۵۱۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بِرَجُلٍ سَکْرَانَ فَقَالَ : إِنِّی طَلَّقْتُ امْرَأَتِی وَأَنَا سَکْرَانُ فَکَانَ رَأْیُ عُمَرَ مَعَنَا أَنْ یَجْلِدَہُ وَأَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَہُمَا فَحَدَّثَہُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَیْسَ لِلْمَجْنُونِ وَلاَ لِلسَّکْرَانِ طَلاَقٌ فَقَالَ عُمَرُ : کَیْفَ تَأْمُرُونِی وَہَذَا یُحَدِّثُنِی عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَلَدَہُ وَرَدَّ إِلَیْہِ امْرَأَتَہُ۔
قَالَ الزُّہْرِیُّ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِرَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ فَقَالَ : قَرَأَ عَلَیْنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ کِتَابَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ فِیہِ السُّنَنُ : أَنَّ کُلَّ أَحَدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ جَائِزٌ إِلاَّ الْمَجْنُونَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِّینَا عَنْ طَاوُسٍ أَنَّہُ قَالَ : کَیْفَ یَجُوزُ طَلاَقُہُ وَلاَ تُقْبَلُ لَہُ صَلاَۃٌ۔ وَعَنْ عَطَائٍ فِی طَلاَقِ السَّکْرَانِ قَالَ : لَیْسَ بِشَیْئٍ ۔
وَعَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ مِثْلَہُ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الإِقْرَارِ حَدِیثُ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ فِی قِصَّۃِ مَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ حَیْثُ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَمَّ أُطَہِّرُکَ؟ ۔ فَقَالَ : مِنَ الزِّنَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَبِہِ جُنُونٌ؟ ۔ فَأُخْبِرَ أَنَّہُ لَیْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ : أَشَرِبْتَ خَمْرًا؟ ۔ فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْکَہَہُ فَلَمْ یَجِدْ مِنْہُ رِیحَ خَمْرٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَثَیِّبٌ أَنْتَ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ -ﷺ- فَرُجِمَ۔ فَبَیِّنٌ فِی ہَذَا أَنَّہُ قَصَدَ إِسْقَاطَ إِقْرَارِہِ بِالسُّکْرِ کَمَا قَصَدَ إِسْقَاطَ إِقْرَارِہِ بِالْجُنُونِ فَدَلَّ أَنْ لاَ حُکْمَ لِقَوْلِہِ وَمَنْ قَالَ بِالأَوَّلِ أَجَابَ عَنْہُ بِأَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی حُدُودِ اللَّہِ تَعَالَی الَّتِی تُدْرَأُ بِالشُّبُہَاتِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]
(١٥١١٣) زہری (رح) فرماتے ہیں : عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک نشہ آور شخص لایا گیا، اس نے کہا : میں نے اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں طلاق دی ہے۔ حضرت عمر نے ہمارے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ اور دونوں کے درمیان تفریق کر دو ۔ حضرت ابان بن عثمان نے فرمایا : حضرت عثمان فرماتے ہیں : پاگل اور نشئی کی طلاق نہیں ہوتی۔ حضرت عمر (رح) فرمانے لگے : آپ مجھے کیسے حکم دیتے ہیں جب کہ یہ حضرت عثمان سے نقل فرما رہے ہیں کہ انھوں نے اس کو کوڑے لگائے اور اس کی بیوی کو واپس کردیا۔
زہری کہتے ہیں کہ رجاہ بن حیوہ کے سامنے تذکرہ کیا گیا تو اس نے کہا : عبدالملک بن مروان نے معاویہ بن ابی سفیان کا خط ہمارے سامنے پڑھا جس میں تھا کہ جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی وہ جائز ہے سوائے پاگل کے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ طاؤس سے منقول ہے کہ اس کی طلاق کیسے جائز ہے جبکہ اس کی نماز کو قبول نہیں کیا جاتا۔
حضرت عطاء نشہ کرنے والے کی طلاق کو شمار نہیں کرتے تھے۔
سلمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک کا قصہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس چیز سے میں تجھے پاک کروں ؟ اس نے کہا : زنا سے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا وہ پاگل تو نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا : وہ پاگل نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو نے شراب تو نہیں پی ؟ ایک شخص نے کھڑے ہو کر اس کے منہ کو سونگھا تو شراب کی بو کو نہ پایا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو شادی شدہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے رجم کرنے کا حکم فرمایا۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نشہ کرنا اور پاگل ہونا، اس بنا پر سزا نہیں دی جاتی تو جو یہ کہتا ہے کہ نشہ کرنے والے کی طلاق ہوجاتی ہے تو اسے جواب دیا جائے گا کہ اللہ کی حدود کو شبہات کی وجہ سے نہیں لگایا جاتا۔