(۱۵۱۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ نُفَیْعًا مُکَاتَبًا لأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَوْ عَبْدًا کَانَتْ تَحْتَہُ امْرَأَۃٌ حُرَّۃٌ فَطَلَّقَہَا اثْنَتَیْنِ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُرَاجِعَہَا فَأَمَرَہُ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنْ یَأْتِیَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْأَلُہُ عَنْ ذَلِکَ فَذَہَبَ إِلَیْہِ فَلَقِیَہُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذًا بَیَدِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَہُمَا فَابْتَدَرَاہُ جَمِیعًا فَقَالاَ : حَرُمَتْ عَلَیْکَ حَرُمَتْ عَلَیْکَ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِیہِ حَدِیثٌ مُسْنَدٌ۔ [صحیح]
(١٥١١٥) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ نفیع ام سلمہ (رض) کے مکاتب تھے یا غلام تھے جن کے نکاح میں آزاد عورت تھی، اس نے دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس نے رجوع کا ارادہ کیا تو ازواجِ مطہرات نے عثمان بن عفان کے پاس روانہ کردیا تاکہ ان سے اس بارے میں سوال کرے۔ وہ ان کے پاس گیا تو وہ انھیں سیڑھیوں کے پاس ملا، جہاں وہ زید بن ثابت کے ہاتھ کو پکڑے ہوئے تھے، ان دونوں سے سوال کیا تو دونوں نے جواب دینے میں جلدی کی کہ وہ تیرے اوپر حرام ہے، وہ تیرے اوپر حرام ہے۔