(۱۵۱۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَجَّاجِ الْمَہْرِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ أَیُّوبَ الْغَافِقِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- یَشْکُو أَنَّ مَوْلاَہُ زَوَّجَہُ وَہُوَ یُرِیدُ أَنْ یُفَرِّقَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ یُزَوِّجُونَ عَبِیدَہُمْ إِمَائَ ہُمْ ثُمَّ یُرِیدُونَ أَنْ یُفَرِّقُوا بَیْنَہُمْ أَلاَ إِنَّمَا یَمْلِکُ الطَّلاَقَ مَنْ یَأْخُذُ بِالسَّاقِ۔ [ضعیف]
(١٥١١٦) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، وہ اپنے غلام کی شکایت کررہا تھا کہ اس نے شادی کرلی ہے، وہ ان کے درمیان تفریق کا ارادہ رکھتا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنے غلاموں کی شادی اپنی لونڈیوں سے کردیتے ہیں۔ پھر ان کے درمیان تفریق چاہتے ہیں ؟ خبردار ! طلاق کا وہ مالک ہے جو پنڈلی کو پکڑتا ہے، یعنی جس کی بیوی ہے۔