(۱۵۱۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ سَمِعَ رَبِیعَۃَ بْنَ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَقُولُ : بَلَغَنِی أَنَّ امْرَأَۃَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَأَلَتْہُ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَقَالَ لَہَا : إِذَا حِضْتِ ثُمَّ طَہُرْتِ فَآذِنِینِی فَلَمْ تَحِضْ حَتَّی مَرِضَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا طَہُرَتْ آذَنَتْہُ فَطَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ أَوْ تَطْلِیقَۃً لَمْ یَکُنْ بَقِیَ لَہُ عَلَیْہَا مِنَ الطَّلاَقِ غَیْرُہَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ یَوْمَئِذٍ مَرِیضٌ فَوَرَّثَہَا عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْہُ بَعْدَ انْقِضَائِ عِدَّتِہَا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالَّذِی أَخْتَارُہُ إِنْ وَرِثَتْ بَعْدَ انْقِضَائِ الْعِدَّۃِ أَنْ تَرِثَ مَا لَمْ تَزَوَّجْ فَإِذَا تَزَوَّجَتْ فَلاَ تَرِثُہُ فَتَرِثَ زَوْجَیْنِ وَتَکُونُ کَالتَّارِکَۃِ لِحَقِّہَا بِالتَّزْوِیجِ۔ [ضعیف]
(١٥١٢٩) ربیعہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا تو انھوں نے فرمایا : جب تو حیض کے بعد پاک ہوجائے تو مجھے بتانا، وہ حائضہ ہی نہ ہوئی تھی کہ عبدالرحمن بن عوف بیمار ہوگئے۔ جب وہ پاک ہوئی تو عبدالرحمن نے تین طلاقیں دے دیں یا ایک طلاق دے دی۔ اس کی کوئی طلاق باقی نہ تھی اور عبدالرحمن بن عوف بیمار تھے تو حضرت عثمان (رض) نے عدت گزرنے کے بعد بھی اسے وارث بنایا۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ عدت گزر جانے کے بعد وارث ہوسکتی ہے تو اگر شادی نہ کرے تو وارث ہوگی۔ اگر آگے شادی کرلے تو وارث نہ ہوگی۔ باقی دو بیویاں وارث ہوگیں گویا کہ اس نے شادی کی وجہ سے اپنا حق چھوڑ دیا ہے۔