hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15134

.

سنن البيهقي

15134
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۱۲۸) قَالَ الشَّیْخُ وَالَّذِی یُؤَکِّدُ رِوَایَۃَ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ طَلْحَۃَ وَأَبِی سَلَمَۃَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ فَرَجٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ یُکَلِّمُ الْوَلِیدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِکِ عَلَی عَشَائِہِ وَنَحْنُ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ فَقَالَ لَہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ نَکَحَ ابْنَۃَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُثْمَانَ ضِرَارًا لاِبْنَۃِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ حِینَ أَبَتْ أَنْ تَبِیعَہُ مِیرَاثَہَا مِنْہُ فِی وَجَعِہِ حِینَ أَصَابَہُ الْفَالِجُ ثُمَّ لَمْ یَنْتَہِ إِلَی ذَلِکَ حَتَّی طَلَّقَ أُمَّ کُلْثُومٍ فَحَلَّتْ فِی وَجَعِہِ وَہَذَا السَّائِبُ بْنُ یَزِیدَ بْنِ أُخْتِ نَمِرٍ حَیٌّ یَشْہَدُ عَلَی قَضَائِ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی تُمَاضِرَ بِنْتِ الأَصْبَغِ وَرَّثَہَا مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ مَا حَلَّتْ وَیَشْہَدُ عَلَی قَضَائِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی أُمِّ حَکِیمٍ بِنْتِ قَارِظٍ وَرَّثَہَا مِنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُکْمَلٍ بَعْدَ مَا حَلَّتْ فَادْعُہُ فَسَلْہُ عَنْ شَہَادَتِہِ۔ قَالَ الْوَلِیدُ حِینَ قَضَی کَلاَمَہُ : مَا أَظُنُّ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَضَی بِہَا ۔ قَالَ مُعَاوِیَۃُ : إِنْ لَمْ یَشْہَدْ عَلَی ذَلِکَ السَّائِبُ فَأَنَا مُبْطِلٌ حَضَرَہُ وَعَایَنَہُ۔ قَالَ الشَّیْخُ ہَذَا إِسْنَادٌ مُؤتَصِلٌ وَتَابَعَہُ ابْنُ أَخِی ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمِّہِ۔ [صحیح]
(١٥١٢٨) ابن شہاب فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ معاویہ بن عبداللہ بن جعفر نے شام کے کھانے پر ولید بن عبدالملک سے بات کی جبکہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان میں تھے۔ معاویہ نے کہا : اے امیرالمومنین ! ابان بن عثمان نے عبداللہ بن عثمان کی بیٹی سے نکاح صرف عبداللہ بن جعفر کی بیٹی کو پریشان کرنے کے لیے کیا ہے۔ جس وقت ان کو فالج کی بیماری نے آلیا تو وہ اپنی میراث فروخت کرنا چاہتے تھے جس کا بیوی نے انکار کردیا، پھر ابان بن عثمان نے اپنی بیوی ام کلثوم کو طلاق دی اور وہ ان کی بیماری کے ایام میں ہی حلال ہوگئی (یعنی عدت پوری ہوگئی) اور یہ سائب بن یزید زندہ ہیں، جو تماضر بنت اصبغ کے فیصلہ کے وقت موجود تھے کہ حضرت عثمان (رض) نے انھیں عدت گزرنے کے بعد عبدالرحمن بن عوف کا وارث بنایا تھا اور حضرت عثمان نے ام حکیم بنت قارظ کو عبداللہ بن مکمل کا بھی عدت گزرنے کے بعد وارث بنایا تھا۔ آپ ان سے پوچھ لیں، ان کی بات مکمل ہونے کے بعد ولید نے کہا : میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان نے یہ فیصلہ نہیں فرمایا۔ معاویہ کہنے لگے : اگر سائب اس کو گواہی نہ دے تو میں اس کی موجودگی اور دیکھنے کو باطل قرار دے دوں گا۔