(۱۵۱۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ زِیَادٍ الأَعْلَمِ عَنِ الْحَسَنِ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ (وَلاَ تُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا) قَالَ : ہُوَ الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ فَإِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا أَشْہَدَ عَلَی رَجْعَتِہَا ثُمَّ یُطَلِّقُہَا فَإِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا أَشْہَدَ عَلَی رَجْعَتِہَا یُرِیدُ أَنْ یُطَوِّلَ عَلَیْہَا۔ وَرُوِّینَا عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ مَعْنَی ہَذَا۔ [صحیح]
(١٥١٥٦) حضرت حسن اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں : { وَ لَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارً الِّتَعْتَدُوْا } [البقرۃ ٢٣١] ” اور تم ان کو تکلیف دینے کی غرض سے نہ روکو، فرماتے ہیں کہ خاوند بیوی کو طلاق دے کر عدت کے ختم ہونے سے پہلے رجوع کر کے پھر طلاق دے دیتا۔ جب عدت پوری ہونے کے قریب ہوتی تو رجوع پر گواہ بن کر طلاق دے دیتا تاکہ اس کی مدت زیادہ لمبی ہو۔