(۱۵۱۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ فِی قَوْلِہِ (وَلاَ تُمْسِکُوہُنَّ ضِرَارًا) قَالَ : الضِّرَارُ أَنْ یُطَلِّقُ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ تَطْلِیقَۃً ثُمَّ یُرَاجِعَہَا عِنْدَ آخِرِ یَوْمٍ یَبْقَی مِنَ الأَقْرَائِ ثُمَّ یُطَلِّقَہَا ثُمَّ یُرَاجِعَہَا عِنْدَ آخِرِ یَوْمٍ یَبْقَی مِنَ الأَقْرَائِ یُضَارُّہَا بِذَلِکَ۔ [صحیح]
(١٥١٥٥) مجاہد اللہ کے قول : { وَ لَا تُمْسِکُوْہُنَّ ضِرَارً } [البقرۃ ٢٣١] ” تکلیف دینے کی غرض سے تم ان کو مت روکو۔ “ ضرار یہ ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دے کر عدت کے ختم ہونے سے ایک دن پہلے رجوع کر کے طلاق دے۔ اسی طرح وہ کرتے رہے۔ یہ تکلیف دینا ہے۔