(۱۵۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَرَوَی الأَوْزَاعِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَظُنُّہُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((آمُرُہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِخُمُسَیْ دِینَارٍ))۔
وَہَذَا اخْتِلاَفٌ ثَالِثٌ فِی إِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ۔
رَوَاہُ إِسْحَاقُ الْحَنْظَلِیُّ عَنْ بَقِیَّۃَ بْنِ الْوَلِیدِ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ بِہَذَا الإِسْنَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ کَانَتْ لَہُ امْرَأَۃٌ تَکْرَہُ الرِّجَالَ ، فَکَانَ کُلَّمَا أَرَادَہَا اعْتَلَّتْ لَہُ بِالْحَیْضَۃِ ، فَظَنَّ أَنَّہَا کَاذِبَۃٌ فَأَتَاہَا فَوَجَدَہَا صَادِقَۃً ، فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَمَرَہُ أَنْ یَتَصَدَّقَ بِخُمُسَیْ دِینَارٍ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِسْحَاقُ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَتْ لَہُ امْرَأَۃٌ فَذَکَرَہُ۔ وَہُوَ مُنْقَطِعٌ بَیْنَ عَبْدِ الْحَمِیدِ وَعُمَرَ۔ [منکر]
(١٥١٨) (الف) سیدنا عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کو دو خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم کرو۔ “ اس کی سند اور متن میں اختلاف ہے۔
(ب) اوزاعی اسیسند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص کی بیوی مردوں کے پاس آنا ناپسند کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے عورت کے پاس آنا چاہا تو اس نے حیض کی شکایت کی، اس نے سمجھا : وہ جھوٹی ہے۔ وہ اس کے پاس آیا تو اس نے سچا پایا، پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا۔