(۱۵۱۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ حَمْشَاذَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ النَّحْوِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ : أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَی بَنِی نَوْفَلٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ اسْتَفْتَی ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی مَمْلُوکٍ کَانَتْ تَحْتَہُ مَمْلَوکَۃٌ فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ فَبَانَتْ مِنْہُ ثُمَّ إِنَّہُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِکَ ہَلْ یَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ یَخْطُبَہَا؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی بِذَلِکَ۔ وَکَذَلِکَ قَالَہُ ہِشَامٌ عَنْ یَحْیَی عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاۃِ : عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یَحْیَی عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَتِّبٍ وَکَذَلِکَ قَالَہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلاَّمٍ عَنْ یَحْیَی عَنْ عُمَرَ۔
وَذَکَرَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَنَّ ابْنَ الْمُبَارَکِ قَالَ لِمَعْمَرٍ : مَنْ أَبُو الْحَسَنِ ہَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَۃً عَظِیمَۃً یُرِیدُ بِہِ إِنْکَارَ مَا جَائَ بِہِ مِنْ ہَذَا الْحَدِیثِ۔ [ضعیف]
(١٥١٨٠) بنو نوفل کے غلام ابو حسن نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں لونڈی تھی، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں تو وہ جدا ہوگئیں، پھر دونوں کو آزاد کردیا گیا تو کیا مرد کے لیے درست ہے کہ وہ اس عورت کو نکاح کا پیغام دے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : ہاں؛ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح فیصلہ فرمایا تھا۔
(ب) ابن مبارک نے معمر سے کہا کہ ابوالحسن کون ہے ؟ تو اس نے ایک بہت بڑی چٹان اٹھانے کی ضمانت دی وہ اس کی بیان کردہ حدیث کا انکار چاہتے تھے۔