(۱۵۱۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہِیَ فِی مَسْکَنِ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَکَانَ طَرِیقَہُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَکَانَ یَسْلُکُ الطَّرِیقَ الآخَرَ مِنْ أَدْبَارِ الْبُیُوتِ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یَسْتَأْذِنَ عَلَیْہَا حَتَّی رَاجَعَہَا۔
وَرُوِّینَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ وَعَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَنَّہُمَا قَالاَ : لاَ یَحِلُّ لَہُ مِنْہَا شَیْء ٌ مَا لَمْ یُرَاجِعَہَا۔[صحیح]
(١٥١٨٦) نافع حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حضرت حفصہ کے گھر میں تھی۔ یہ مسجد کی جانب ان کا راستہ تھا تو وہ دوسرے راستے گھروں کے پیچھے سے چلے گئے۔ اس سے اجازت کو مکروہ جانتے ہوئے یہاں تک کہ اس سے رجوع کرلیا۔
(ب) عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ جب تک وہ رجوع نہ کرے مرد کے لیے کچھ بھی اس سے جائز نہیں ہے۔