(۱۵۲۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنِی عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ فِی مَنْ تَزَوَّجَ أَمَۃً ثُمَّ بَانَتْ مِنْہُ بِالْبَتَّۃِ ثُمَّ اسْتَسَرَّہَا سَیِّدُہَا ثُمَّ ابْتَاعَہَا زَوْجُہَا بَعْدَ ذَلِکَ فَلاَ تَحِلُّ لَہُ بِاسْتِسْرَارِ سَیِّدِہَا إِیَّاہَا وَلاَ تَحِلُّ لَہُ بِمِلْکِ یَمِینِہِ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ۔ [ضعیف]
(١٥٢٠٥) ابن ابو زناد اپنے والد سے جو مدینہ کے فقہاء میں سے ہیں نقل فرماتے ہیں کہ جس شخص نے لونڈی سے شادی کی، پھر وہ تین طلاقوں کی وجہ سے جدا ہوگئی، اس کے مالک نے اس کو چھپالیا، پھر اس کے خاوند نے اس لونڈی کو خرید لیا تو مالک کے چھپانے کی وجہ سے یہ لونڈی خاوند کے لیے حلال نہ ہوگی اور نہ ہی اس کی ملکیت میں آنے کی بنا پر۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے۔