(۱۵۲۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْیَانَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عُبَیْدَۃَ السَّلْمَانِیِّ قَالَ : لاَ تَحِلُّ لَہُ إِلاَّ مِنَ الْبَابِ الَّذِی حَرُمَتْ عَلَیْہِ فِی رَجُلٍ تَزَوَّجَ مَمْلُوکَۃً فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ اشْتَرَاہَا وَقَالَ : إِذَا کَانَ تَحْتَ الرَّجُلِ مَمْلُوکَۃٌ فَطَلَّقَہَا تَطْلِیقَتَیْنِ ثُمَّ وَقَعَ عَلَیْہَا سَیِّدُہَا فَقَالَ : لاَ یُحِلُّہَا السَّیِّدُ لِزَوْجِہَا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ زَوْجًا۔ [ضعیف]
(١٥٢٠٦) ابراہیم عبیدہ سلمانی سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ لونڈی اس کے لیے حلال نہیں ہے مگر اسی طریقہ سے جیسے یہ اس پر حرام ہوئی ہے کہ ایک شخص نے لونڈی کو دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس کو خرید لیا۔ فرماتے ہیں : جب لونڈی کسی شخص کے نکاح میں تھی، اس نے دو طلاقیں دے دیں، پھر لونڈی کا مالک اس سے ہمبستری کرتا رہا تو مالک نے خاوند کے لیے حلال نہیں کردی۔ اگر اس کا خاوند ہوتا تو پہلے کے لیے حلال کرتا۔