(۱۵۲۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی آیَۃِ الإِیلاَئِ قَالَ : الرَّجُلُ یَحْلِفُ لاِمْرَأَتِہِ بِاللَّہِ لاَ یَنْکِحُہَا تَتَرَبَّصُ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ فَإِنْ ہُوَ نَکَحَہَا کَفَّرَ عَنْ یَمِینِہِ بِإِطْعَامِ عَشْرَۃِ مَسَاکِینَ أَوْ کِسْوَتِہِمْ أَوْ تَحْرِیرِ رَقَبَۃٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ وَإِنْ مَضَتْ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ قَبْلَ أَنْ یَنْکِحَہَا خَیَّرَہُ السُّلْطَانُ إِمَّا أَنْ یَفِیئَ فَیُرَاجِعَ وَإِمَّا أَنْ یَعْزِمَ فَیُطَلِّقَ کَمَا قَالَ اللَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی۔ [ضعیف] (۱۳۱۳۱) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباسt سے ایلا کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مرد قسم کھا لیتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہ کریں گے، وہ عورتیں چار ماہ انتظار کریں گی۔ اگر خاوند بیوی سے صحبت کرے تو درست وگرنہ اپنی قسم کا کفارہ دیں جو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا ہے۔ جو یہ نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں مجامعت سے پہلے تو بادشاہ اس کو اختیار دے گا کہ اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرے یا طلاق کا ارادہ ہے تو طلاق دے، جیسے اللہ کا فرمان ہے۔
(١٣١٣١) علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے ایلا کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ مرد قسم کھالیتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہ کریں گے، وہ عورتیں چار ماہ انتظار کریں گی۔ اگر خاوند بیوی سے صحبت کرے تو درست وگرنہ اپنی قسم کا کفارہ دیں جو دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، کپڑے پہنانا یا گردن آزاد کرنا ہے۔ جو یہ نہ پائے تو تین دن کے روزے رکھنا ہے، اگر چار ماہ گزر جائیں مجامعت سے پہلے تو بادشاہ اس کو اختیار دے گا کہ اگر رجوع کرنا چاہے تو رجوع کرے یا طلاق کا ارادہ ہے تو طلاق دے، جیسے اللہ کا فرمان ہے۔