(۱۵۲۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَنْبَأَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ : أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ رَوْحٍ الدِّمَشْقِیَّ حَدَّثَہُمْ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْجُوعِیُّ حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ صَدَقَۃَ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلَکْتُ قَالَ : وَیْحَکَ وَمَا ذَاکَ؟ ۔ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی یَوْمٍ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : مَا أَجِدُہَا قَالَ : فَصُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ۔ قَالَ : مَا أَسْتَطِیعُ قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : مَا أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِعَرَقٍ فِیہِ تَمْرٌ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ : خُذْہُ فَتَصَدَّقْ بِہِ ۔ قَالَ : عَلَی أَفْقَرَ مِنْ أَہْلِی فَوَاللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَحْوَجُ مِنْ أَہْلِی قَالَ فَضَحِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفِرِ اللَّہَ وَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ دُحَیْمٌ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الْہِقْلُ بْنُ زِیَادٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔
(١٥٢٨٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں ہلاک ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھ پر افسوس کس چیز نے تجھے ہلاک کردیا ؟ اس نے کہا : میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک غلام آزاد کر۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس شخص نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا، فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے کہا : میں نہیں پاتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ١٥ صاع کھجور کا ایک ٹوکرہ لایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لے جا کر صدقہ کر دو ۔ اس نے کہا : اپنے سے زیادہ محتاج پر ؟ اللہ کی قسم ! مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، تو ہنسنے کی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لو اور اللہ سے استغفار کرو اور اپنے گھر والوں کو کھلاؤ۔ [حسن لغیرہ ]