(۱۵۲۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِیبٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- رَجُلٌ فَقَالَ : إِنِّی وَقَعْتُ عَلَی أَہْلِی فِی رَمَضَانَ قَالَ : حَرِّرْ رَقَبَۃً ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ۔ قَالَ : لاَ أَسْتَطِیعُ قَالَ : فَتَصَدَّقْ عَلَی سِتِّینَ مِسْکِینًا ۔ قَالَ : لاَ أَجِدُ قَالَ فَأُتِیَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِمِکْتَلٍ یَکُونُ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ یَکُونُ سِتِّینَ رُبُعًا فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ فَقَالَ لَہُ : أَطْعِمْ ہَذَا سِتِّینَ مِسْکِینًا۔ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا فَقَالَ لَہُ : اذْہَبْ فَأَطْعِمْہُ أَہْلَکَ ۔ فِی ہَذَا الْمُرْسَلِ تَأْکِیدٌ لِلرِّوَایَۃِ الْمَوْصُولَۃِ وَہَذَا أَوْلَی مِنْ رِوَایَۃِ عَطَائٍ الْخُرَاسَانِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ بِالشَّکِّ فِی خَمْسَۃَ عَشَرَ أَوْ عِشْرِینَ۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ خَمْسَۃَ عَشَرَ بِلاَ شَکٍّ وَسَیُرْوَی إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِ الأَیْمَانِ الآثَارُ عَنِ الصَّحَابَۃِ فِی جَوَازِ التَّصَدُّقِ بِمُدٍّ عَلَی کُلِّ مِسْکِینٍ وَاللَّہُ الْمُوَفِّقُ۔ [حسن لغیرہ]
(١٥٢٩٠) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : میں ماہ رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گردن آزاد کر۔ اس نے کہا : میرے پاس نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ۔ اس نے کہا : میں طاقت نہیں رکھتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں پر صدقہ کر۔ اس نے کہا : میں نہیں پاتا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ١٥ صاع کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دے دیا اور فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پہاڑ کے دو کناروں کے درمیان میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔
اس مرسل روایت میں مرفوع روایات کی تائید ہے، لیکن عطاء خراسانی سعید بن مسیب سے جو نقل فرماتے ہیں ١٥ صاع یا ٢٠ صاع نقل فرماتے ہیں اس میں شک ہے۔