(۱۵۳۳۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ یَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لِلْمُتَلاَعِنَیْنِ : حِسَابُکُمَا عَلَی اللَّہِ أَحَدُکُمَا کَاذِبٌ لاَ سَبِیلَ لَکَ عَلَیْہَا ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَالِی مَالِی۔ قَالَ : لاَ مَالَ لَکَ إِنْ کُنْتَ صَدَقْتَ فَہُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِہَا وَإِنْ کُنْتَ کَذَبْتَ عَلَیْہَا فَذَاکَ أَبْعَدُ لَکَ فِیہِ أَوْ فِیہَا ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ کَمَا مَضَی۔ وَقَدْ رَوَی قِصَّۃَ الْمُتَلاَعِنَیْنِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی شُہُودِہِمْ مَعَ غَیْرِہِمْ تَلاَعُنَہُمَا وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٣٣٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو لعان کرنے والوں کے بارے میں کہ تمہارا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، خاوند کو بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا مال ! میرا مال ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کوئی مال نہیں، اگر تو سچا ہے تو یہ مال اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض گیا اور اگر تو نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ اس سے بھی دور کی بات ہے۔