hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15348

.

سنن البيهقي

15348
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۳۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَیْنِ فِی زَمَنِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا فَمَا دَرَیْتُ مَا أَقُولُ فَقُمْتُ إِلَی مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَیْہِ فَقِیلَ ہُوَ نَائِمٌ فَسَمِعَ صَوْتِی فَقَالَ : ابْنُ جُبَیْرٍ فَائْذَنُوا لَہُ۔ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَقَالَ : مَا جَائَ بِکَ ہَذِہِ السَّاعَۃِ إِلاَّ حَاجَۃٌ۔ فَإِذَا ہُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَۃَ رَحْلِہِ مُتَوَسِّدًا بِوِسَادَۃٍ حَشْوُہَا لِیفٌ أَوْ سَلَبٌ قَالَ : السَّلَبُ یَعْنِی لِیفَ الْمُقْلِ فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلاَعِنَیْنِ یُفَرَّقُ بَیْنَہُمَا۔ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ہَذَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَی عَلَی امْرَأَتِہِ رَجُلاً کَیْفَ یَصْنَعُ إِنْ تَکَلَّمَ تَکَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِیمٍ وَإِنْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی مِثْلِ ذَلِکَ۔ قَالَ : فَلَمْ یُجِبْہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ الَّذِی کُنْتُ سَأَلْتُ عَنْہُ قَدِ ابْتُلِیتُ بِہِ قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ الآیَاتِ الَّتِی فِی سُورَۃِ النُّورِ (وَالَّذِینَ یَرْمُونَ أَزْوَاجَہُمْ) إِلَی آخِرِ الآیَاتِ قَالَ : فَدَعَا النَّبِیُّ -ﷺ- بِالرَّجُلِ فَتَلاَ عَلَیْہِ وَوَعَظَہُ وَأَخْبَرَہُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا أَہْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَۃِ فَقَالَ : وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا کَذَبْتُ عَلَیْہَا قَالَ ثُمَّ دَعَا النَّبِیُّ -ﷺ- بِالْمَرْأَۃِ فَتَلاَہُنَّ عَلَیْہَا وَوَعَظَہَا وَذَکَّرَہَا وَأَخْبَرَہَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا أَہْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَۃِ فَقَالَتْ : لاَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا صَدَقَکَ لَقَدْ کَذَبَکَ۔ قَالَ : فَبَدَأَ النَّبِیُّ -ﷺ- بِالرَّجُلِ فَشَہِدَ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللَّہِ إِنَّہُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ وَفِی الْخَامِسَۃِ أَنَّ لَعْنَۃَ اللَّہِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِینَ ثُمَّ ثَنَّی النَّبِیُّ -ﷺ- بِالْمَرْأَۃِ فَشَہِدَتْ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللَّہِ إِنَّہُ لَمِنَ الْکَاذِبِینَ وَالْخَامِسَۃَ أَنَّ غَضَبَ اللَّہِ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِین قَالَ ثُمَّ فَرَّقَ بَیْنَہُمَا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٣٤٢) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مجھ سے مصعب بن زبیر کے دور میں دو لعان کرنے والوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ان کے درمیان تفریق کروا دی جائے ؟ میں نہ سمجھا، جو میں نے کہا تھا، میں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے گھر جا کر اجازت طلب کی تو کہا گیا : وہ سوئے ہوئے ہیں، انھوں نے میری آواز سنی تو فرمایا : ابن جبیر کو اجازت دو ، کہتے ہیں : میں ان کے پاس گیا تو حضرت عبداللہ (رض) فرمانے لگے : آپ اس وقت کس کام سے آئے ہیں کہ وہ اپنی سواری بچھائے ہوئے تھے اور کھجور کے پتوں سے بھرے ہوئے تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈالی جائے گی ؟ فرمانے لگے : سبحان اللہ۔ ہاں کیونکہ سب سے پہلے فلاں بن فلاں نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا کیا خیال ہے، اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لے تو کیا کرے اگر وہ کلام کرتا ہے اگر وہ کلام کرتا ہے تو بہت بڑے معاملے کے بارے میں کلام کرے گا، اگر وہ خاموش رہتا ہے تو اس جیسے معاملے پر ہی خاموش رہے گا، فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ جب اس کے بعد وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جس مسئلہ کے بارے میں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تھا میں اس میں مبتلا کردیا گیا ہوں، اللہ رب العزت نے سورة نور کی آیات نازل فرما دیں : { وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَہُمْ } (النور : ٦) کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو بلا کر اس آیت کی تلاوت کی اور واضح نصیحت فرمائی اور فرمایا : دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اس نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی اور واضح نصیحت کی اور فرمایا : دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، اس نے سچ نہیں جھوٹ بولا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرد سے ابتدا کی اور اس نے چار قسمیں کھائیں کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار کی گواہی میں اس نے کہا : اللہ کی لعنت ہو اس پر جو جھوٹا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اس نے چار گواہیاں دیں کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں بار کی گواہی میں کہا کہ اس پر اللہ کا غصب ہو اگر وہ سچوں میں سے ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے درمیان تفریق کروا دی۔