(۱۵۳۴۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی الْوَزِیرِ التَّاجِرُ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنِی ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْفَضْلِ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَی قَالَ : سُئِلَ ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنِ الرَّجُلِ یَقْذِفُ امْرَأَتَہُ فَحَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ ذَلِکَ وَأَنَا أَرَی أَنَّ عِنْدَہُ مِنْ ذَلِکَ عِلْمًا فَقَالَ : إِنَّ ہِلاَلَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہُ بِشَرِیکِ بْنِ سَحْمَائَ وَکَانَ أَخَا الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ لأُمِّہِ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ لاَعَنَ فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَعْنِی بَیْنَہُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : انْظُرُوہَا فَإِنْ جَائَ تْ بِہِ أَبْیَضَ سَبْطًا أَقْضَی الْعَیْنَیْنِ فَہُوَ لِہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَإِنْ جَائَ تْ بِہِ أَکْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَیْنِ فَہُوَ لِشَرِیکِ بْنِ سَحْمَائَ ۔ قَالَ فَأُنْبِئْتُ أَنَّہَا جَائَ تْ بِہِ أَکْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَیْنِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی۔
(ت) وَقَدْ رُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ وَفِیہِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَوْلاَ مَا مَضَی مِنْ کِتَابِ اللَّہِ لَکَانَ لِی وَلَہَا شَأْنٌ۔
(ق) وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ لاَعَنَ بَیْنَہُمَا عَلَی الْحَمْلِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٣٤٧) عبدالاعلیٰ فرماتے ہیں کہ ہشام بن حسان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی پر الزام لگا دیا تھا تو ہشام بن حسان نے محمد سے نقل فرمایا کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا، میرے خیال میں ان کے پاس اس بارے میں علم تھا تو فرمانے لگے کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ الزام لگا دیا اور یہ براء بن مالک کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے لعان کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کے درمیان لعان کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کا انتظار کرو۔ اگر یہ سفید، سیدھے بالوں، موٹی آنکھوں والا بچہ جنم دے تو ہلال بن امیہ کا ہے، اگر سیاہ گھنگھریالے بالوں، باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو یہ شریک بن سحماء کا ہے، کہتے ہیں : مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سیاہ گھنگھریالے بالوں اور باریک پنڈلیوں والا بچہ جنم دیا۔
(ب) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے مکمل حدیث نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر کتاب اللہ کا فیصلہ نہ ہوچکا ہوتا تو میں اس سے نپٹتا۔ یہ تمام احادیث حمل پر لعان کے بارے میں دلالت کرتی ہیں۔