(۱۵۳۴۸) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الأَسْفَاطِیُّ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: ذُکِرَ الْمُتَلاَعِنَیْنِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِیٍّ فِی ذَلِکَ قَوْلاً فَانْصَرَفَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِہِ فَذَکَرَ لَہُ أَنَّہُ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً فَقَالَ عَاصِمٌ: مَا ابْتُلِیتُ بِہَذَا إِلاَّ بِقَوْلِی فَجَائَ بِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَخْبَرَہُ بِالَّذِی وَجَدَ عَلَیْہِ امْرَأَتَہُ وَکَانَ ذَلِکَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِیلَ اللَّحْمِ سَبْطَ الشَّعَرِ وَکَانَ الَّذِی ادَّعَی أَنَّہُ وَجَدَ عِنْدَ أَہْلِہِ آدَمَ خَدْلاً کَثِیرَ اللَّحْمِ جَعْدًا قَطَطًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: اللَّہُمَّ بَیِّنْ۔ فَوَضَعَتْ شَبِیہًا بِالَّذِی ذَکَرَ زَوْجُہَا أَنَّہُ وَجَدَہُ عِنْدَہَا فَلاَعَنَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَہُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فِی الْمَجْلِسِ ہِیَ الَّتِی قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَیْرِ بَیِّنَۃٍ لَرَجَمْتُ ہَذِہِ۔ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہِ عَنْہُمَا: لاَ تِلْکَ امْرَأَۃٌ کَانَتْ تُظْہِرُ السُّوئَ فِی الإِسْلاَمِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُوسُفَ عَنِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ فَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ تُوہِمُ أَنَّہُ لاَعَنَ بَیْنَہُمَا بَعْدَ الْوَضْعِ وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ بَعْضُ رُوَاتِہِ قَدَّمَ حِکَایَۃَ وَضْعِہَا فِی الرِّوَایَۃِ عَلَی حِکَایَۃِ اللِّعَانِ فَہَذِہِ قِصَّۃُ عُوَیْمِرٍ الْعَجْلاَنِیِّ۔ وَقَدْ رُوِّینَا عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ فِی قِصَّۃِ عُوَیْمِرٍ الْعَجْلاَنِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لاَعَنَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ وَکَانَتْ حَامِلاً۔ وَرَوَی ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ہَذِہِ الْقَصَّۃَ وَقَدَّمَ رِوَایَۃَ اللِّعَانِ عَلَی حِکَایَۃِ الْوَضْعِ نَحْوَ رِوَایَۃِ الْجَمَاعَۃِ إِلاَّ أَنَّہُ تَرَکَ مِنْ إِسْنَادِہِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ۔[صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٣٤٨) قاسم بن محمد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا گیا تو عاصم بن عدی اس کے بارے میں ایک بات کہتے ہیں کہ پھر آپ چلے گئے، پھر اس کی قوم کا ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پایا ہے اور یہ شخص زرد رنگ، کم گوشت، سیدھے بالوں والا تھا اور جس آدمی کے متعلق دعویٰ کیا، وہ گندم گو رنگ، بھاری جسم، گھنگھریلے بالوں والا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! معاملے کو واضہ فرما۔ تو عورت نے اسی کے مثل بچے کو جنم دیا جو خاوند نے مشابہت ذکر کی تھی۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان لعان کروایا تو مجلس میں ایک شخص نے عبداللہ بن عباس (رض) سے کہا : یہ وہ عورت تھی جس کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : اگر میں کسی کو بغیر دلیل کے رجم کرتا تو یہ عورت تھی۔ عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ عورت تھی جس نے برائی کو اسلام میں ظاہر کیا۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : ان روایات سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ لعان وضع حمل کے بعد کیا گیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ بعض راویوں سے وضع حمل کی حکایت پہلے بیان کردی گئی اور لعان کی بعد میں۔ یہ عویمر عجلانی کا قصہ ہے۔
(ب) زہری سہل بن سعد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان لعان کروایا تو اس کی بیوی حاملہ تھی۔