(۱۵۳۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنَّ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ حَدَّثَہُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا لِی عَہْدٌ بِأَہْلِی مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ قَالَ وَعَفَارُہَا أَنَّہَا إِذَا کَانَتْ تُؤَبَّرُ تُعَفَّرُ أَرْبَعِینَ یَوْمًا لاَ تُسْقَی بَعْدَ الإِبَارِ قَالَ : فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِی رَجُلاً قَالَ : وَکَانَ زَوْجُہَا مُصْفَرٍّا حَمْشَ السَّاقَیْنِ سَبْطَ الشَّعَرِ وَالَّذِی رُمِیَتْ بِہِ خَدْلاً إِلَی السَّوَادِ جَعْدًا قَطَطًا مُسْتَہًا۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اللَّہُمَّ بَیِّنْ ۔ ثُمَّ لاَعَنَ بَیْنَہُمَا فَجَائَ تْ شَبِیہًا بِالرَّجُلِ الَّذِی رُمِیَتْ بِہِ۔ رَوَاہُ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لاَعَنَ بَیْنَ الْعَجْلاَنِیِّ وَامْرَأَتِہِ وَکَانَتْ حَامِلاً وَکَانَ الَّذِی رُمِیَتْ بِہِ ابْنَ السَّحْمَائِ۔
[صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٥٣٤٩) قاسم بن محمد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میرے گھروں کا میرے سے کوئی ملاپ نہیں، جب سے کھجور کو پہلی مرتبہ سیراب کیا تھا، فرماتے ہیں کہ عفاریہ ہے کہ جب سے کھجوروں کی تعبیر کی گئی ہے۔ ٤٠ دن تک کھجور پر گابھا لگایا تھا تو قلم لگانے کے بعد اس کو سیراب نہیں کیا گیا۔ فرماتے ہیں : میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا اور اس کا خاوند زردرنگ، باریک پنڈلیوں اور سیدھے بالوں والا تھا۔ جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ مکمل سیاہ، گھنگھریالے بالوں والا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! معاملے کو واضح فرما۔ پھر ان دونوں کے درمیان لعان کروایا گیا تو اس نے اس کے مشابہہ اس نے بچہ جنم دیا جس کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی۔ ابو الزناد قاسم بن محمد سے وہ حضرت عبیداللہ بن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ نے میاں بیوی کے درمیان لعان کروایا تو وہ حاملہ تھی۔