(۱۵۳۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلْمُتَلاَعِنَیْنِ : حِسَابُکُمَا عَلَی اللَّہِ أَحَدُکُمَا کَاذِبٌ لاَ سَبِیلَ لَکَ عَلَیْہَا ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَالِی مَالِی۔ قَالَ : إِنْ کُنْتَ صَدَقْتَ عَلَیْہَا فَہُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِہَا وَإِنْ کُنْتَ کَذَبْتَ عَلَیْہَا فَہُوَ أَبْعَدُ لَکَ مِنْہُ ۔ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ کَمَا مَضَی۔ وَرُوِّینَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : الْمُتَلاَعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقَا لاَ یَجْتَمِعَانِ أَبَدًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٥٣٥٤) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو لعان کرنے والوں کے متعلق فرمایا : تمہارا حساب اللہ کے سپرد، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تجھے بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا مال میرا مال۔ فرمایا : اگر تو سچا ہے تو مال شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض گیا۔ اگر تو نے جھوٹ بولا ہے تو یہ اس سے بھی دور کی بات ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو لعان کرنے والے تفریق کے بعد کبھی جمع نہ ہو سکیں گے۔