(۱۵۳۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قِصَّۃِ ہِلاَلِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَامْرَأَتِہِ وَأَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- لاَعَنَ بَیْنَہُمَا وَأَنَّہَا شَہِدَتْ بَعْدَ الْتِعَانِ الزَّوْجِ أَرْبَعَ شَہَادَاتٍ بِاللَّہِ إِنَّہُ لَمِنَ الْکَاذِبِینَ فَلَمَّا کَانَتِ الْخَامِسَۃُ قِیلَ لَہَا اتَّقِی اللَّہَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا أَہْوَنُ مِنْ عَذَابَ الآخِرَۃِ وَإِنَّ ہَذِہِ الْمُوجِبَۃُ الَّتِی تُوجِبُ عَلَیْکِ الْعَذَابَ فَسَکَتَتْ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَتْ : وَاللَّہِ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِی فَشَہِدَتْ فِی الْخَامِسَۃِ أَنَّ غَضَبَ اللَّہِ عَلَیْہَا إِنْ کَانَ مِنَ الصَّادِقِینَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَہُمَا وَقَضَی أَنْ لاَ یُدْعَی وَلَدُہَا لأَبٍ وَلاَ تُرْمَی وَلاَ یُرْمَی وَلَدُہَا وَمَنْ رَمَاہَا أَوْ رَمَی وَلَدَہَا فَعَلَیْہِ الْحَدُّ وَقَضَی أَنْ لاَ بَیْتَ لَہَا عَلَیْہِ وَلاَ قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُمَا یَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَیْرِ طَلاَقٍ وَلاَ مُتَوَفَّی عَنْہَا۔ [صحیح]
(١٥٣٥٥) عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) سے ہلال بن امیہ اور اس کی بیوی کے قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے درمیان لعان کروایا۔ اس عورت نے خاوند کے لعان کے بعد چار گواہیاں اللہ کی قسم اٹھا کردیں کہ وہ جھوٹا ہے، جب پانچویں گواہی کی باری آئی تو اس سے کہا گیا : اللہ سے ڈر۔ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ترین ہے اور یہ اللہ کے عذاب کو واجب کردینے والی ہے۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہی۔ اس کے بعد کہنے لگی : میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی۔ اس نے پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں میں تفریق کروا دی۔ اور فرمایا : بچے کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے گا۔ لیکن بچے اور والدہ پر تہمت بھی نہ لگائی جائے۔ جس نے والدہ یا بچے پر تہمت لگائی اسے حد لگائی جائے گی اور آپ نے فیصلہ فرمایا کہ خاوند کے ذمہ نہ رہائش اور نہ ہی خوراک ہے کیونکہ دونوں میں تفریق بغیر طلاق و وفات کے ہوئی ہے۔