(۱۵۳۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قُلْتُ لِلشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَہَلْ خَالَفَکَ فِی ہَذَا غَیْرُنَا؟ قَالَ : نَعَمْ بَعْضُ الْمَشْرِقِیِّینَ قُلْتُ فَمَا کَانَتْ حُجَّتُہُمْ؟ قَالَ : کَانَتْ حُجَّتُہُمْ أَنْ قَالُوا : انْتَفَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ وَلَدِ جَارِیَۃٍ لَہُ وَانْتَفَی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ وَلَدِ جَارِیَۃٍ لَہُ وَانْتَفَی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنْ وَلَدِ جَارِیَۃٍ قُلْتُ : فَمَا کَانَتْ حَجَّتُکَ عَلَیْہِمْ یَعْنِی جَوَابَکَ قَالَ : أَمَّا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ أَنْکَرَ حَمْلَ جَارِیَۃٍ لَہُ أَقَرَّتْ بِالْمَکْرُوہِ وَأَمَّا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَإِنَّہُمَا أَنْکَرَا إِنْ کَانَا فَعَلاَ وَلَدَ جَارِیَتَیْنِ عَرَفَا أَنْ لَیْسَ مِنْہُمَا فَحَلاَلٌ لَہُمَا وَکَذَلِکَ لِزَوْجِ الْحُرَّۃِ إِذَا عَلِمَ أَنَّہَا حَبِلَتْ مِنَ الزِّنَا أَنْ یَدْفَعَ وَلَدَہَا وَلاَ یُلْحِقَ بِنَسَبِہِ مَنْ لَیْسَ مِنْہُ فِیمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَتَکَلَّمَ عَلَیْہِ بِمَا یَطُولُ ذِکْرُہُ ہَا ہُنَا۔ [صحیح]
(١٥٣٧٦) ربیع کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی (رح) سے کہا کیا آپ کی مخالفت اس مسئلہ میں ہمارے علاوہ کوئی اور بھی کرتا ہے تو انھوں نے کہا : بعض مشرقی لوگ۔ میں نے پوچھا، ان کے دلائل کیا ہیں ؟ فرماتے ہیں : ان کے دلائل یہ ہیں کہ سیدنا عمر، زید بن ثابت، ابن عباس (رض) نے اپنی لونڈی کے حمل کا انکار کیا، جب اس نے لڑائی کا اعتراف کیا تو زید بن ثابت اور ابن عباس (رض) نے فرمایا : اگر دونوں نے پہچان لیا کہ بیٹا ان سے نہیں ہے تو انکار کرنا ان کے لیے جائز ہے اور اسی طرح آزاد عورت کا خاوند جب یہ جان لے کہ یہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہوئی ہے تو وہ بچے کو اپنے نسب میں داخل نہیں کرتا کہ اس بچے کو عورت کے ساتھ ملا دیتا ہے۔