(۱۵۳۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً جَائَ تْ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجِی طَلَّقَنِی ثُمَّ تَرَکَنِی حَتَّی رَدَدْتُ بَابِی وَوَضَعْتُ مَائِی وَخَلَعْتُ ثِیَابِی فَقَالَ : قَدْ رَاجَعْتُکِ قَدْ رَاجَعْتُکِ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاِبْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ إِلَی جَنْبِہِ : مَا تَقُولُ فِیہَا؟ قَالَ : أَرَی أَنَّہُ أَحَقُّ بِہَا حَتَّی تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَیْضَۃِ الثَّالِثَۃِ وَتَحِلَّ لَہَا الصَّلاَۃُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَأَنَا أَرَی ذَلِکَ۔ [صحیح]
(١٥٣٩٤) علقمہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت عمر (رض) کے پاس آئی، اس نے کہا : میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی ، پھر مجھے چھوڑ دیایہاں تک کہ میں اپنے دروازے پر پلٹی اور میں نے اپنے چمڑے کو رکھا اور اپنے کپڑے اتارے ، پھر اس نے کہا : میں نے تجھ سے رجوع کیا، میں نے تجھ سے رجوع کیا۔
عمر (رض) نے عبداللہ بن مسعود سے کہا : اور وہ ان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے : آپ اس عورت کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ عبداللہ بن مسعود نے کہا : میرا خیال ہے کہ اس کا خاوند اس کا زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض کا غسل نہ کرلے اور اس کے لیے نماز حلال ہوجائے۔ عمر (رض) نے فرمایا : میرا بھی اس کے بارے میں یہی خیال ہے۔