hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15416

.

سنن البيهقي

15416
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۴۱۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ وَہُوَ صَحِیحٌ وَہِیَ تُرْضِعُ ابْنَتَہُ فَمَکَثَتْ سَبْعَۃَ عَشَرَ شَہْرًا لاَ تَحِیضُ یَمْنَعُہَا الرَّضَاعُ أَنْ تَحِیضَ ثُمَّ مَرِضَ حَبَّانُ بَعْدَ أَنْ طَلَّقَہَا سَبْعَۃَ أَشْہُرٍ أَوْ ثَمَانِیَۃً فَقِیلَ لَہُ : إِنَّ امْرَأَتَکَ تُرِیدُ أَنْ تَرِثَ فَقَالَ لأَہْلِہِ : احْمِلُونِی إِلَی عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَمَلُوہُ إِلَیْہِ فَذَکَرَ لَہُ شَأْنَ امْرَأَتِہِ وَعِنْدَہُ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ لَہُمَا عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا تَرَیَانِ؟ فَقَالاَ : نَرَی أَنَّہَا تَرِثُہُ إِنْ مَاتَ وَیَرِثُہَا إِنْ مَاتَتْ فَإِنَّہَا لَیْسَتْ مِنَ الْقَوَاعِدِ الَّلاتِی قَدْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیضِ وَلَیْسَتْ مِنَ الأَبْکَارِ الَّلاتِی لَمْ یَبْلُغْنَ الْمَحِیضَ ثُمَّ ہِیَ عَلَی عِدَّۃِ حَیْضِہَا مَا کَانَ مِنْ قَلِیلٍ أَوْ کَثِیرٍ فَرَجَعَ حَبَّانُ إِلَی أَہْلِہِ فَأَخَذَ ابْنَتَہُ فَلَمَّا فَقَدَتِ الرَّضَاعَ حَاضَتْ حَیْضَۃً ثُمَّ حَاضَتْ حَیْضَۃً أُخْرَی ثُمَّ تُوُفِّیَ حَبَّانُ قَبْلَ أَنْ تَحِیضَ الثَّالِثَۃَ فَاعْتَدَّتْ عِدَّۃَ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا وَوَرِثَتْ۔ [ضعیف]
(١٥٤١٠) عبداللہ بن ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ انصار میں ایک شخص کو حبان بن منقذ کہا جاتا تھا، اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اس حالت میں کہ وہ تندرست تھا اور وہ اس کی بیٹی کو دودھ پلا رہی تھی۔ وہ سترہ مہینے رکی رہی۔ اس کو حیض نہ آیا اور اس کے حیض کو دودھ پلانے نے روکا ہوا تھا۔ پھر حبان اس کو طلاق دینے کے بعد سترہ یا اٹھارہ مہینے بیمار رہا۔ اس کو کہا گیا : تیری بیوی چاہتی ہے کہ وہ تیری وارث بنے۔ اس نے اپنے گھر والوں کو کہا : مجھے عثمان (رض) کے پاس لے چلوپس انھوں نے اس کو عثمان (رض) کی طرف اٹھایا۔ اس نے اپنی بیوی کا معاملہ عثمان (رض) سے ذکر کیا اور اس کے پاس علی اور زید بن ثابت (رض) تھے۔ ان دونوں کو عثمان نے کہا : آپ کا کیا خیال ہے ؟ ان دونوں نے کہا : ہمارا خیال ہے کہ اگر یہ فوت ہوجائے تو وہ اس کی وارث بنے گی اور اگر وہ عورت فوت ہوجائے تو وہ اس کا وارث بنے گا، یہ ان میں سے نہیں ہے جو حیض سے ناامید ہوجاتی ہیں اور نہ ہی یہ ان باکرہ میں سے ہے جو حیض کو نہیں پہنچی۔ پھر اس عدت پر ہوئی جو حیض زیادہ ہے یا کم۔ پھر حبان نے اپنے اہل کی طرف رجوع کیا اور اپنی بیٹی کو پکڑا، پھر جب رضاعت ختم ہوئی تو وہ حائضہ ہوئی، پھر وہ دوسری مرتبہ حائضہ ہوئی پھر حبان اس کے تیسرا حیض آنے سے پہلے فوت ہوگئے۔ پس اس نے وہ عدت گزاری جو عدت خاوند کے فوت ہونے پر ہے۔ اور وہ اس کی وراثت کی حقدار بنی۔