(۱۵۴۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ ہُوَ ابْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ أَبَاہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُتْبَۃَ : کَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَرْقَمِ الزُّہْرِیِّ یَأْمُرُہُ أَنْ یَدْخُلَ عَلَی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ الأَسْلَمِیَّۃِ فَیَسْأَلَہَا عَنْ حَدِیثِہَا وَعَمَّا قَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ اسْتَفْتَتْہُ فَکَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ یُخْبِرُہُ أَنَّ سُبَیْعَۃَ أَخْبَرَتْہُ : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا وَتُوُفِّیَ عَنْہَا فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَہِیَ حَامِلٌ فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَہَا بَعْدَ وَفَاتِہِ فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِہَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ فَدَخَلَ عَلَیْہَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ الدَّارِ فَقَالَ لَہَا : مَا لِی أَرَاکِ مُتَجَمِّلَۃً لَعَلَّکِ تُرِیدِینَ النِّکَاحَ إِنَّکِ وَاللَّہِ مَا أَنْتِ بِنَاکِحٍ حَتَّی یَمُرَّ عَلَیْکِ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرٌ۔ قَالَتْ سُبَیْعَۃُ فَلَمَّا قَالَ لِی ذَلِکَ جَمَعْتُ ثِیَابِی حِینَ أَمْسَیْتُ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ فَأَفْتَانِی بِأَنِّی قَدْ حَلَلْتُ حِینَ وَضَعْتُ حَمْلِی فَأَمَرَنِی بِالتَّزْوِیجِ إِنْ بَدَا لِی۔
زَادَ أَبُو عَمْرٍو فِی رِوَایَتِہِ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ : فَلاَ أَرَی بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِینَ وَضَعَتْ وَإِنْ کَانَتْ فِی دَمِہَا غَیْرَ أَنَّہُ لاَ یَقْرَبُہَا زَوْجُہَا حَتَّی تَطْہُرَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ حَرْمَلَۃَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَحَرْمَلَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یُونُسَ ثُمَّ قَالَ وَتَابَعَہُ ابْنُ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٤٦٨) ابن شہاب سے روایت ہے کہ عبیداللہ نے اس کو حدیث بیان کیا، اس کے والدعبداللہ بن عتبہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کی طرف خط لکھا، وہ اس کو حکم دے رہے تھے کہ وہ سبیعہ اسلمیہ پر داخل ہو اور وہ اس سے سوال کرے اس کی حدیث کے بارے میں اور اس کے بارے میں سوال کرے جو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : جب اس نے آپ سے فتویٰ طلب کیا۔ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کی طرف خط لکھا اس کو خبر دیتے ہوئے کہ سبیعہ اسلمیہ نے اس کو بتایا کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی اور وہ بنی عامر بن لوی قبیلے سے تھا۔ وہ ان میں سے تھا جو بدر میں حاضر ہوئے۔ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر فوت اور وہ حاملہ تھی ۔ وہ نہ چمٹی رہی کہ وہ اپنے حمل کو وضع کرے اس کی وفات کے بعد۔ جب وہ اپنے نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے شادی کے امید والوں کے لیے زینت اختیار کی۔ اس پر بنو عبدالدارکا ایک شخص ابو سنابل بن بعکک داخل ہوا ۔ اس نے اس کو کہا : تجھے کیا ہوگیا ؟ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو زینت اختیارکیے ہوئے ہے شاید کہ تو نکاح کا ارادہ رکھتی ہے۔ اللہ کی قسم ! تو نکاح نہیں کرسکتی حتی کہ تجھ پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔ سبیعہ کہتی ہے : جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، جب شام ہوئی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور آپ سے سوال کیا تو آپ نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں حلال ہوچکی ہوں۔ جب میں وضع حمل کرچکی اور آپ نے مجھے نکاح کا حکم دیا۔