(۱۵۴۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ حَدَّثَنِی جَعْفَرٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ أَخْبَرَتْ عَنْ أُمِّہَا أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ امْرَأَۃً یُقَالُ لَہَا سُبَیْعَۃُ کَانَتْ تَحْتَ زَوْجِہَا فَتُوُفِّیَ عَنْہَا وَہِیَ حُبْلَی فَخَطَبَہَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْکَکٍ فَأَبَتْ أَنْ تُنْکَحَ فَقَالَ : وَاللَّہِ لاَ یَصْلُحُ أَنْ تَنْکِحِی حَتَّی تَعْتَدِّی آخِرَ الأَجَلَیْنِ فَمَکُثَتْ قَرِیبًا مِنْ عِشْرِینَ لَیْلَۃً ثُمَّ نُفِسَتْ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : انْکَحِی ۔ فَکَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ طُلِّقَتِ الْبَتَّۃَ أَنَّہُ أَمَرَہَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَی ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ عِنْدَہُ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا فَکَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ یَقُولُ : کَانَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ إِذَا ذَکَرَتْ فَاطِمَۃُ شَیْئًا مِنْ ذَلِکَ رَمَاہَا بِمَا کَانَ فِی یَدِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٤٧٢) ابو سلمہ بن عبدالرحمن (رض) نے ہم کو حدیث بیان کی کہ زینب بنت ام سلمہ (رض) نے اس کو اپنی والدہ ام سلمہ (رض) سے خبرجو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ہیں کہ ایک عورت کو سبیعہ کہا جاتا تھا، وہ اپنے خاوند کے نکاح میں تھی۔ اس کا خاوند فوت ہوگیا اور وہ حاملہ تھی۔ اس کو ابو سنابل نے نکاح کا پیغام بھیجا، اس نے انکار کردیا۔ ابو سنابل نے کہا : اللہ کی قسم نہیں درست کہ تو نکاح کرے یہاں تک کہ تو دو علاقوں میں سے آخری اختیارکر لے، وہ تقریباً بیس راتیں ٹھہری رہی، پھر اس کو زچگی ہوئی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نکاح کرلے۔ فاطمہ بنت قیس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی، جب اس کو طلاق دی گئی۔ آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ عبداللہ بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہوجائے، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے تو اپنی عدت ختم ہونے سے پہلے اس کے پاس اپنے کپڑے بھی تبدیل کرسکتی ہے۔ محمد بن اسامہ بن زید کہتے ہیں : اسامہ بن زید سے جب بھی فاطمہ بنت قیس کسی چیز کا ذکر کرتی تو اس کا ہاتھ میں جو بھی چیز ہوتی وہ اس کو مار دیتے۔