hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15479

.

سنن البيهقي

15479
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۴۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی وَأَصْحَابُہُ یُعَظِّمُونَہُ کَأَنَّہُ أَمِیرٌ فَذَکَرُوا آخِرَ الأَجَلَیْنِ فَذَکَرْتُ حَدِیثَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ فِی سُبَیْعَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَ فَغَمَزَ إِلَیَّ بَعْضُ أَصْحَابِہِ فَفَطِنْتُ فَقُلْتُ : إِنِّی لَحَرِیصٌ عَلَی الْکَذِبِ إِنْ کَذَبْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ وَہُوَ بِنَاحِیَۃِ الْکُوفَۃِ قَالَ فَاسْتَحَی وَقَالَ وَلَکِنَّ عَمَّہُ لَمْ یَکُنْ یَقُولُ ذَلِکَ قَالَ : وَلَمْ أَکُنْ سَمِعْتُ فِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ شَیْئًا قَالَ : فَقُمْتُ فَلَقِیتُ أَبَا عَطِیَّۃَ : مَالِکَ بْنَ الْحَارِثِ فَسَأَلْتُہُ فَذَہَبَ یُحَدِّثُنِی حَدِیثَ سُبَیْعَۃَ قُلْتُ : إِنِّی لَسْتُ عَنْ ہَذَا أَسْأَلُکَ وَلَکِنْ ہَلْ سَمِعْتَ فِیہِ مِنْ عَبْدِ اللَّہِ شَیْئًا؟ قَالَ : نَعَمْ کُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّہِ فَسَأَلْنَا عَنْہَا فَقَالَ : أَرَأَیْتُمْ إِنْ وَضَعَتْ مِنْ قَبْلِ الأَرْبَعَۃِ الأَشْہُرِ وَعَشْرٍ؟ قُلْنَا : حَتَّی تَمْضِیَ۔ قَالَ : أَرَأَیْتُمْ إِنْ مَضَتِ الأَرْبَعَۃُ الأَشْہُرِ وَعَشْرٌ قَبْلَ أَنْ تَضَعَ ۔ قَالَ قُلْنَا : حَتَّی تَضَعَ۔ قَالَ فَقَالَ : تَجْعَلُونَ عَلَیْہَا التَّغْلِیظَ وَلاَ تَجْعَلُونَ لَہَا الرُّخْصَۃَ لَنَزَلَتْ سُورَۃُ النِّسَائِ الْقُصْرَی بَعْدَ الطُّولَی (وَأُولاَتُ الأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَنْ یَضَعْنَ حَمْلَہُنَّ) أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو النُّعْمَانِ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح ۴۹۱۰]
(١٥٤٧٣) محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ساتھی اس کی تعظیم کر رہے تھے گویا کہ وہ ان کا امیر ہے۔ انھوں نے دوسری دو عدتوں کا تذکرہ کیا اور میں نے وہ حدیث ذکر کردی جو عبداللہ بن عتبہ کی ہے۔ سبیعہ بنت حارث کے بارے میں۔ ابن سیرین کہتے ہیں : انھوں نے مجھے گھورا تو میں سمجھ گیا اور میں نے کہا : میں جھوٹ پر حریص نہیں ہوں۔ اگر میں عبداللہ بن عتبہ پر جھوٹ کہوں تو عبداللہ بن عتبہ کوفہ کے ایک جانب ہیں۔ ابن سیرین کہتے ہیں : انھوں نے کچھ حیا محسوس کیا اور کہا لیکن اس کے چچا نے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سنا۔ ابن سیرین کہتے ہیں : میں کھڑا ہوا اور میں ابو عطیہ مالک بن حارث کو ملا۔ میں نے اس سے سوال کیا، وہ شروع ہوا، مجھے سبعیہ حدیث بیان کرنے لگا۔ میں نے کہا : میں نے اس بارے میں آپ سے سوال نہیں کیا، کیا آپ نے اس بارے میں عبداللہ سے کچھ سنا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! ہم عبداللہ کے ساتھ تھے ہم نے اس کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا : تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ چار ماہ اور دس دن سے پہلے وضع حمل کر دے تو۔ ہم نے کہا : نہیں یہاں تک کہ وہ وضع حمل کر دے۔ عبداللہ نے کہا : تم اس پر سختی کر رہے ہو اور اس کے لیے رخصت نہیں دے رہے۔ سو رہ نساء چھوٹی طویل کے بعد نازل ہوئی : { وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ } ” اور حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔ “
اس کو بخاری نے نکالا ہے۔