(۱۵۴۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَۃِ یُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا وَہِیَ حَامِلٌ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَہَا فَقَدْ حَلَّتْ۔ فَأَخْبَرَہُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُہَا عَلَی السَّرِیرِ لَمْ یُدْفَنْ لَحَلَّتْ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٥٤٧٦) نافع عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو حاملہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہوجائے۔ عبداللہ بن عمر نے فرمایا : جب وہ اپنے حمل کو وضع کر دے تو وہ حلال ہوگئی، اس کو ایک انصاری شخص نے خبر دی کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اگر وہ بچے کو جنم دے دے اور اس کا خاوند ابھی چارپائی پر پڑا ہو اس کو دفن نہ کیا گیا ہو تو وہ حلال ہوگئی یعنی اس کی عدت ختم ہوگئی اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔