(۱۵۴۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ {لاَ تُخْرِجُوہُنَّ مِنْ بُیُوتِہِنَّ وَلاَ یَخْرُجْنْ إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : الْفَاحِشَۃُ الْمُبَیِّنَۃُ أَنْ تَفْحُشَ الْمَرْأَۃُ عَلَی أَہْلِ الرَّجُلِ وَتُؤْذِیہِمْ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : سُنَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی حَدِیثِ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ تَدُلُّ عَلَی أَنَّ مَا تَأَوَّلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} ہُوَ الْبَذَاء ُ عَلَی أَہْلِ زَوْجِہَا کَمَا تَأَوَّلَ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن]
(١٥٤٨٥) عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت { وَلاَ یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [الطلاق ١] کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : { بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } سے مراد یہ ہے کہ عورت آدمی کے اہل کے بارے میں فحش گوئی کرے اور ان کو تکلیف دے۔
امام شافعی فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس میں ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ } [النساء ١٩] قاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔