(۱۵۴۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ وَہُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا وَکِیلُہُ بِشَعِیرٍ فَسَخِطَتْہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا لَکِ عَلَیْنَا مِنْ شَیْئٍ ۔ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : لَیْسَ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ ۔ وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ أُمِّ شَرِیکٍ ثُمَّ قَالَ : تِلْکَ امْرَأَۃٌ یَغْشَاہَا أَصْحَابِی فَاعْتَدِّی عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۱۴۸۰]
(١٥٤٨٦) فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے اسے طلاق بتہ دے دی اور وہ شام میں غائب ہوگیا۔ اس نے اس کی طرف اپنا وکیل جو دے کر بھیجا وہ اس پر سخت ناراض ہوئی۔ ابو عمرو بن حفص نے کہا : اللہ کی قسم ! نہیں ہے تیرے لیے ہمارے ذمے کچھ بھی۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاسآئی، اس نے یہ تمام ماجرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے اور اس کو حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر عدت گزارے۔ پھر فرمایا : یہ عورت ہے اس کو میری صحابی ڈھانب لیں گے ۔ تو ابن مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے اور تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔
اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔