hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 15522

.

سنن البيهقي

15522
Sunan Al Bayhaqi
(۱۵۵۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ ہَذِہِ الأَحَادِیثَ الثَّلاَثَۃَ قَالَ قَالَتْ زَیْنَبُ : دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ حَبِیبَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- حِینَ تُوُفِّیَ أَبُو سُفْیَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِطِیبٍ فِیہِ صُفْرَۃٌ خَلُوقٌ أَوْ غَیْرُہُ فَدَہَنَتْ مِنْہُ جَارِیَۃٌ ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَیْہَا ثُمَّ قَالَتْ : وَاللَّہِ مَا لِی بِالطِّیبِ مِنْ حَاجَۃٍ غَیْرَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ قَالَ ابْنُ بُکَیْرٍ عَلَی الْمِنْبَرِ ثُمَّ اتَّفَقَا لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَیَالٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ وَقَالَتْ زَیْنَبُ : دَخَلْتُ عَلَی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ تَعَالَی عَنْہُا حِینَ تُوُفِّیَ أَخُوہَا عَبْدُ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَدَعَتْ بِطِیبٍ فَمَسَّتْ مِنْہُ ثُمَّ قَالَتْ : مَا لِی بِالطِّیبِ منِ حَاجَۃٍ غَیْرَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ لاَ یَحِلُّ لاِمْرَأَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَیِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثِ لَیَالٍ إِلاَّ عَلَی زَوْجِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔ قَالَتْ زَیْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّی أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُا تَقُولُ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ ابْنَتِی تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَقَدِ اشْتَکَتْ عَیْنَہَا أَفَنَکْحُلُہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ ۔ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثًا کُلُّ ذَلِکَ یَقُولُ لاَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا ہِیَ أَرْبَعَۃُ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ تَرْمِی بِالْبَعْرَۃِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ ۔ قَالَ حُمَیْدٌ قُلْتُ لِزَیْنَبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : وَمَا تَرْمِی بِالْبَعْرَۃِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ؟ فَقَالَتْ زَیْنَبُ : کَانَتِ الْمَرْأَۃُ إِذَا تُوُفِّیَ عَنْہُا زَوْجُہَا دَخَلَتْ حِفْشًا فَلَبِسَتْ شَرَّ ثِیَابِہَا وَلَمْ تَمَسَّ طِیبًا حَتَّی تَمُرَّ بِہَا سَنَۃٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّۃٍ حِمَارٍ أَوْ شَاۃٍ أَوْ طَیْرٍ فَتَفْتَضُّ بِہِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَیْئٍ إِلاَّ مَاتَ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الشَّافِعِیِّ : فَتَفْتَضُّ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَۃً فَتَرْمِی بِہَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَ تْ مِنْ طِیبٍ أَوْ غَیْرِہِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٥١٦) زینب بنت ابی سلمہ سے روایت ہے کہ اس نے اس کو ان تین احادیث کی خبر دی۔ زینب نے کہا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی ام حبیبہ پر داخل ہوئی، جب ابو سفیان فوت ہوئے توام حبیبہ نے خوشبو منگوائی، اس میں زرد رنگ کی خوشبو تھی یا اس کے علاوہ کوئی اور خوشبو تھی، اس نے اس سے لڑکی کو لگایا، پھر اس کے رخساروں کو چھوا، پھر اس نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی، سوائے اس کے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ منبر پر فرما رہے تھے کہ کسی عورت کے لیے حلال نہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے اور وہ اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔
زینب فرماتی ہیں : میں زینب بنت جحش پر داخل ہوئی، جب اس کا بھائی عبداللہ فوت ہوا، اس نے خوشبو منگوائی اور اس خوشبو میں سے کچھ خوشبو لگائی۔ پھر اس نے کہا : مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا، آپ منبر پر فرما رہے تھے کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔
زینب کہتی ہیں اور میں نے اپنی والدہ ام سلمہ سے سنا کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، اس نے کہا : میری بیٹی کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہوگئی ہیں۔ کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں لگا سکتی۔ دو مرتبہ فرمایا : یا تین مرتبہ فرمایا جتنی بار بھی اس نے سوال کیا، آپ نے فرمایا : نہیں لگا سکتی۔ پھر آپ نے فرمایا : یہ تو چار ماہ اور دس دن ہیں اور تمہاری ایک جاہلیت میں لیدمارتی تھی سال کے اختتام پر۔
حمید کہتے ہیں کہ میں نے زینب (رض) سے کہا : کیا وہ لید تھی سال کے اختتام پر۔ زینب (رض) نے فرمایا : جب عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ داخل ہوجاتی خیمے میں، وہ بدترین لباس پہنتی، خوشبو نہ لگاتی یہاں تک کہ اس کے ساتھ سال گزر جاتا، پھر گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا۔