(۱۵۵۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ السَّائِبَ بْنَ خَبَّابٍ تُوُفِّیَ وَأَنَّ امْرَأَتَہُ جَائَ تْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَتْ وَفَاۃَ زَوْجِہَا وَذَکَرَتْ لَہُ حَرْثًا لَہُمْ بِقَنَاۃَوَسَأَلَتْہُ ہَلْ یَصْلُحُ لَہَا أَنْ تَبِیتَ فِیہِ فَنَہَاہَا عَنْ ذَلِکَ فَکَانَتْ تَخْرُجُ مِنَ الْمَدِینَۃِ بِسَحَرٍ فَتُصْبِحُ فِی حَرْثِہِمْ فَتَظَلُّ فِیہِ یَوْمَہَا ثُمَّ تَدْخُلُ الْمَدِینَۃَ إِذَا أَمْسَتْ تَبِیتُ فِی بَیْتِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٥٥١٥) یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی کہسائب بن یزید فوت ہوگئے اور اس کی بیوی عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آئی، اس نے اپنے خاوند کی وفات کا تذکرہ کیا اور اس کے لیے اپنی کھیتی کا ذکر بھی کیا جو قناۃ نامی جگہ میں ہے اور اس سے سوال کیا کہ کیا اس کے لیے درست ہے کہ وہ اس میں رات گزارے۔ اس کو اس سے منع کیا ۔ وہ مدینہ سے سحری کے وقت نکلیں۔ وہ دن اپنی کھیتی میں گزارتی، اور صبح اپنی کھیتی میں کرتی، پھر جب شام ہوجاتی تو وہ مدینہ میں داخل ہوتی اور رات اپنے گھر میں گزارتی۔