(۱۵۵۷۵) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالَ قَالَ أَبُو نَصْرٍ یَعْنِی عَبْدَ الْوَہَّابِ بْنَ عَطَائٍ سَأَلْتُ سَعِیدًا عَنِ الْمَفْقُودِ فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ الْہُذَلِیِّ أَنَّہُ قَالَ : بَعَثَنِی الْحَکَمُ بْنُ أَیُّوبَ إِلَی سُہَیْمَۃَ بِنْتِ عُمَیْرٍ الشَّیْبَانِیَّۃِ أَسْأَلُہَا فَحَدَّثَتْنِی أَنَّ زَوْجَہَا صَیْفِیَّ بْنَ قَتِیلٍ نُعِیَ لَہَا مِنْ قَنْدَابِلَ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَہُ الْعَبَّاسَ بْنَ طَرِیفٍ الْقَیْسِیَّ ثُمَّ إِنَّ زَوْجَہَا الأَوَّلَ قَدِمَ فَأَتَیْنَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ مَحْصُورٌ فَأَشْرَفَ عَلَیْنَا فَقَالَ : کَیْفَ أَقْضِی بَیْنَکُمْ وَأَنَا عَلَی ہَذِہِ الْحَالِ؟ فَقُلْنَا : قَدْ رَضِینَا بِقَوْلِکَ فَقَضَی أَنْ یُخَیَّرَ الزَّوْجُ الأَوَّلُ بَیْنَ الصَّدَاقِ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَأَتَیْنَا عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَضَی بِمَا قَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خُیِّرَ الزَّوْجُ الأَوَّلُ بَیْنَ امْرَأَتِہِ وَبَیْنَ الصَّدَاقِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ فَأَخَذَ مِنِّی أَلْفَیْنِ وَمِنْ زَوْجِی أَلْفَیْنِ وَہُوَ صَدَاقُہُ الَّذِی کَانَ جَعَلَ لِلْمَرْأَۃِ۔ قَالَ : وَکَانَتْ لَہُ أُمُّ وَلَدٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ مِنْ بَعْدِہِ وَوَلَدَتْ لِزَوْجِہَا أَوْلاَدًا فَرَدَّہَا عَلَیْہِ وَوَلَدَہَا وَجَعَلَ لأَبِیہِمْ أَنْ یَفْتَکَّہُمْ۔
قَالَ عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ سَعِیدٌ وَحَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی الْمَلِیحِ بِمِثْلِ ہَذَا الْحَدِیثِ غَیْرَ أَنَّ أَیُّوبَ قَالَ قَالَ : جَعَلَ أَوْلاَدَہَا لأَبِیہِمْ۔قَالَ وَکَانَ قَتَادَۃُ یَقُولُ : یَأْخُذُ الصَّدَاقَ الآخِرَ۔وَعَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ : یَأْخُذُ الصَّدَاقَ الأَوَّلَ۔ ہَذِہِ الْمَرْأَۃُ لَمْ تُعْرَفْ بِمَا تَثْبُتُ بِہِ رِوَایَتُہَا ہَذِہِ وَإِنْ ثَبَتَتَ تُضَعِّفُ رِوَایَۃَ أَبِی الْمَلِیحِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُرْسَلَۃٌ فِی الْمَفْقُودِ فَإِنَّ ہَذِہِ الرِّوَایَۃَ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ فِی امْرَأَۃٍ نُعِیَ لَہَا زَوْجُہَا وَالْمَشْہُورُ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَا قَدَّمْنَا ذِکْرَہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١٥٥٧٥) یحییٰ بن ابو طالب نے حدیث بیان کی، کہتے ہیں کہ ابو نصر عبدالوہاب بن عطاء نے کہا : میں نے سعید سے گم شدہ خاوند کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے ہم کو قتادہ سے خبر دی کہ ابو ملیح ہذلی نے کہا : مجھے حکم بن ایوب سہمیہ کی طرف بھیجا۔ میں نے اس سے سوال کیا، اس نے مجھے حدیث بیان کی کہ اس کا خاوند صیفی بن قتیل کے فوت ہونے کا قندابل سے اس کے لیے اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد عباس بن طریف قیسی نے اس سے شادی کرلی ۔ پھر اس کا پہلا خاوند بھی آگیا۔ ہم عثمان بن عفان (رض) کے پاس آئے اور وہ قید میں تھے۔ انھوں نے ہمارے اوپر جھانکا اور فرمایا : میں تمہارے درمیان کیسے فیصلہ کروں اور میں اس حال میں ہوں۔ ہم نے کہا : ہم آپ کے فرمان کے ساتھ راضی ہوجائیں گے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے خاوند کو حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ پھر عثمان (رض) نے فرمایا : پہلے خاوند کو اس کی بیوی اور حق مہر کے درمیان اختیار دیا گیا ہے۔ اس نے حق مہر کو اختیار کیا ۔ اس نے مجھ سے دو ہزار لیے اور میرے خاوند سے بھی دو ہزار لیے اور وہ اس کا حق مہر تھا جو اس نے عورت کو دیا تھا۔ فرماتے ہیں : وہ اس کے لیے ام ولد رہی ۔ اس نے اس کے بعد شادی کرلی۔ اس نے اس کے لیے اولاد کو جنم دیا۔ اس نے اس کو اس پر لوٹا دیا اور عبدالوہاب نے فرمایا : سعید نے کہا : ہم کو ایوب نے ابو الملیح سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ اس کے علاوہ ایوب نے کہا : کیا اس کی اولاد کو ان کے باپ کے لیے فرمایا : قتادہ فرماتے تھے : وہ دوسرے کا حق مہر لے اور قتادہ سے عن حسن سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : وہ پہلے کا حق مہر لے۔