(۱۵۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ قَالَ أَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ عَمَّہَا أَخَا أَبِی الْقُعَیْسِ جَائَ یَسْتَأْذِنُ عَلَیْہَا بَعْدَ مَا ضُرِبَ الْحِجَابُ فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَہُ حَتَّی یَأْتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَتَسْتَأْذِنَہُ فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَتْ: جَائَ عَمِّی أَخُو أَبِی الْقُعَیْسِ فَرَدَدْتُہُ حَتَّی أَسْتَأْذِنَکَ فَقَالَ: أَوَلَیْسَ بِعَمِّکِ؟ قَالَتْ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِی الْمَرْأَۃُ وَلَمْ یُرْضِعْنِی الرَّجُلُ۔ قَالَ: إِنَّہُ عَمُّکِ فَیَلِجُ عَلَیْکِ۔ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا تُحَرِّمُ مِنَ الْوِلاَدَۃِ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦٠٩) حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے عائشہ (رض) نے خبر دی کہ ان کا چچا ابو قعیس کا بھائی آیا، ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی اور پردے کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ عائشہ (رض) نے اسے اجازت دینے سے انکار کیا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئیں اور وہ آپ سے اجازت مانگے ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئیتو انھوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا میرا چچا ابو قعیس کا بھائی آیا تھا، میں نے اس کو واپس بھیج دیا حتیٰ کہ میں آپ سے اجازت لوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہ تیرا چچا نہیں ہے، میں نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ آپ نے فرمایا : وہ تیرا چچا ہے وہ تیرے پاس آسکتا ہے۔ عائشہ (رض) رضاعت سے تھیں حرام قرار دیتی جو پیدائش سے حرام ہوتا۔