(۱۵۶۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتِ : اسْتَأْذَنَ عَلَیَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِی الْقُعَیْسِ فَلَمْ آذَنْ لَہُ فَقَالَ : أَتَحْتَجِبِینَ مِنِّی وَأَنَا عَمُّکِ؟ قَالَتْ قُلْتُ : وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ : أَرْضَعَتْکِ امْرَأَۃُ أَخِی بِلَبَنِ أَخِی ۔ قَالَتْ : فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : صَدَقَ أَفْلَحُ فَائْذَنِی لَہُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦١٠) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھ سے ابو قعیس کے بھائی افلح نے اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت نہیں دی۔ اس نے کہا : کیا تو مجھ سے پردہ کرتی ہے اور میں تیرا چچا ہوں۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : یہ کیسے ؟ اس نے کہا : تجھے میرے بھائی کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : افلح نے سچ کہا تو اس کو اجازت دے۔
اس کو بخاری نے صحیح میں آدم سے روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے ایک دوسری سند عن شعبہ سے نکالا ہے۔