(۱۵۶۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ : أَنَّ عَمَّہَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ یُسَمَّی أَفْلَحَ اسْتَأْذَنَ عَلَیْہَا فَحَجَبَتْہُ فَأَخْبَرَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا : لاَ تَحْتَجِبِی فَإِنَّہُ یَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ مَا یَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٥٦١١) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے رضاعی چچا افلح نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اس سے پردہ کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس سے پردہ نہ کر۔ کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجائے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں اس کو مسلم نے صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے۔