(۱۵۶۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ قَعْنَبٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ وَأَبُو الْوَلِیدِ عَنْ مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیدِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ فَأَرْضَعَتْ إِحْدَاہُمَا غُلاَمًا وَأَرْضَعَتِ الأُخْرَی جَارِیَۃً فَقِیلَ یَتَزَوَّجُ الْغُلاَمُ الْجَارِیَۃَ؟ فَقَالَ : لاَ اللَّقَاحُ وَاحِدٌ۔ [صحیح]
(١٥٦١٧) عمرو بن شرید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس کی دو بیویاں ہیں، ان میں سے ایک نے لڑکے کو دودھ پلایا اور دوسری نے لڑکی کو دودھ پلایا۔ کیا لڑکا اس لڑکی سے شادی کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ کیونکہ ان کا نطفہ یا ان کو حاملہ کرنے والا ایک ہی ہے۔