(۱۵۶۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ أَیُّوبَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ : دَخَلَ أَعْرَابِیٌّ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ فِی بَیْتِی فَقَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ إِنِّی کَانَتْ لِیَ امْرَأَۃٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَیْہَا أُخْرَی فَزَعَمَتِ امْرَأَتِی الأُولَی أَنَّہَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِی الْحُدْثَی رَضْعَۃً أَوْ رَضْعَتَیْنِ۔فَقَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَۃُ وَالإِمْلاَجَتَانِ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]
(١٥٦٢٨) عبداللہ بن حارث ام فضل سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر داخل ہوا اور آپ (علیہ السلام) میرے گھر میں تھے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میری بیوی ہے ، میں نے اس پر دوسری شادی کرلی۔ میرے پہلی بیوی کا خیال ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پلایا ہے۔ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک چوسا یا دو چوسے حرمت کو ثابت نہیں کرتے۔
اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔