(۱۵۶۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی الْخَلِیلِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَیْتِی فَجَائَ ہُ أَعْرَابِیٌّ فَقَالَ : کَانَتْ عِنْدِی امْرَأَۃٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَیْہَا امْرَأَۃً أُخْرَی فَزَعَمَتِ امْرَأَتِی الأُولَی أَنَّہَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِی الْحُدْثَی رَضْعَۃً أَوْ رَضْعَتَیْنِ أَوْ إِمْلاَجَۃً أَوْ إِمْلاَجَتَیْنِ۔ فَقَالَ : لاَ تُحَرِّمُ الإِمْلاَجَۃُ وَالإِمْلاَجَتَانِ ۔ أَوْ قَالَ : الرَّضْعَۃُ وَالرَّضْعَتَانِ ۔ [صحیح۔ ۱۴۵۱]
(١٥٦٢٧) ام فضل سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں تھے۔ ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہا : میرے پاس ایک بیوی تھی، میں نے دوسری شادی کرلی ۔ میری پہلی بیوی کا گمان ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک گھونٹ یا دو گھونٹ یا ایک چوسا یا دو چوسے (اپنا) دودھ پلایا ہے۔ آپ نے فرمایا : ایک چوسا یا دو چوسے یا فرمایا : ایک گھونٹ یا دو گھونٹ حرمت کو ثابت نہیں کرتے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔