(۱۵۶۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ : أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَرْسَلَتْ بِہِ وَہُوَ یَرْضَعُ إِلَی أُخْتِہَا أُمِّ کُلْثُومٍ فَأَرْضَعَتْہُ ثَلاَثَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ مَرِضَتْ فَلَمْ تُرْضِعْہُ غَیْرَ ثَلاَثِ رَضَعَاتٍ فَلَمْ أَکُنْ أدْخُلُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ کُلْثُومٍ لَمْ تُکْمِلْ لِی عَشْرَ رَضَعَاتٍ۔ [صحیح]
(١٥٦٣٨) نافع سے روایت ہے سالم بن عبداللہ نے اس کو خبر دی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی عائشہ (رض) نے اس کو بھیجا اور وہ دودھ پیتا تھا اپنی بہن ام کلثوم کی طرف ۔ اس نے اس کو تین باردودھ پلایا پھر وہ بیمار ہوگئیں۔ اس نے اس کو تین رضاعتوں کے علاوہ دودھ نہیں پلایا۔ میں عائشہ (رض) پر اس وجہ سے داخل نہیں ہوتا تھا کہ ام کلثوم نے میرے لیے یعنی میری دس رضاعتیں پوری نہیں کیں ، یعنی دس بار دودھ نہیں پلایا۔