(۱۵۶۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ أَمَرَتْ بِہِ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا یَرْضَعُ عَشْرًا لأَنَّہَا أَکْثَرُ الرَّضَاعِ وَلَمْ تُتِمَّ لَہُ خَمْسًا فَلَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہَا وَلَعَلَّ سَالِمًا أَنْ یَکُونَ ذَہَبَ عَلَیْہِ قَوْلُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فِی الْعَشْرِ الرَّضَعَاتِ فَنُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ۔ [صحیح]
(١٥٦٣٩) ہمیں ربیع نے خبر دی کہ امام شافعی (رح) نے فرمایا : عائشہ (رض) نے اس کے ساتھ حکم دیا کہ دس رضاعتیں کی جائیں۔ کیونکہ یہ اکثر رضاعتیں ہیں اور اس کے لیے پانچ مکمل نہیں کی گئیں ۔ وہ عائشہ (رض) پر داخل نہیں ہوتے تھے اور شاید کے سالم اسی کی طرف گئے ہیں اور دس رضاعات کے بارے میں عائشہ (رض) کا قول ہے کہ وہ منسوخ کردی گئیں پانچ معلوم کے ساتھ۔