(۱۵۶۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو ہِشَامٍ الرِّفَاعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَصِینٍ عَنْ أَبِی عَطِیَّۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی أَبِی مُوسَی فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِی وَرِمَ ثَدْیُہَا فَمَصَصْتُہُ فَدَخَلَ حَلْقِی شَیْئٌ سَبَقَنِی فَشَدَّدَ عَلَیْہِ أَبُو مُوسَی فَأَتَی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ : سَأَلْتَ أَحَدًا غَیْرِی؟ قَالَ : نَعَمْ أَبَا مُوسَی فَشَدَّدَ عَلَیَّ فَأَتَی أَبَا مُوسَی فَقَالَ : أَرَضِیعٌ ہَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَی : لاَ تَسْأَلُونِی مَا دَامَ ہَذَا الْحَبْرُ فِیکُمْ أَوْ قَالَ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ۔
وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی حَصِینٍ وَزَادَ فِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ : إِنَّمَا الرَّضَاعُ مَا أَنَبْتَ اللَّحْمَ وَالدَّمَ۔ [حسن]
(١٥٦٥٦) ابو عطیہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ کی طرف ایک شخص آیا، اس نے کہا : میری بیوی کے پستانوں پر ورم آگیا۔ میں نے اس کو چوسا تو میرے حلق میں کوئی چیز داخل ہوگئی۔ وہ مجھ سے سبقت لے گئی۔ اس پر ابو موسیٰ نے سختی کی ، پھر وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا، انھوں نے کہا : کیا تو نے میرے علاوہ کسی اور سے بھی سوال کیا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ابو موسیٰ سے، اس نے مجھ پر سختی کی ہے۔ وہ ابو موسیٰ کے پاس آیا اور کہا : کیا یہ دودھ پینے والا ہے ؟ (یعنی رضاعی ہے) ابو موسیٰ نے کہا : تم مجھ سے نہ سوال کرو۔ جب تک یہ عالم تمہارے درمیان موجود ہے یا تم میں جب تک یہ ہے۔ اس کو ثوری نے ابو حصین سے روایت کیا ہے اور اس میں عبداللہ سے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں۔ رضاعت وہ ہے جو گوشت اور خون کو بڑھائے۔